پاکستان سمیت آٹھ اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کے دروازے بند کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقدس مقام کو فوری طور پر دوبارہ کھولے اور عبادت گزاروں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا بند کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی قابض حکام نے رمضان المبارک کے مقدّس مہینے میں مسلمان عبادت گزاروں کے لیے مسجدِ اقصیٰ کے دروازے بند کر دیے ہیں، جبکہ قدیم شہر اور عبادت گاہوں تک رسائی پر سخت سکیورٹی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں نہ صرف امتیازی اور من مانی ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور تاریخی ‘اسٹیٹس کو’ کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مسجدِ اقصیٰ کی بندش مذہبی آزادی اور اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کی حرمت پر کھلم کھلا حملہ ہے۔ مسجدِ اقصیٰ تک رسائی کو روکنا دراصل مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بیت المقدس، فلسطینی عوام اور عالمِ اسلام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
🔊PR No.6️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) March 11, 2026
Joint Statement on Closure of the Gates of Al-Aqsa Mosque/Al-Haram Al-Sharif by Israeli Occupation Authorities pic.twitter.com/diagC5MSPi
مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اب محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی قدم اٹھائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ تک رسائی کا تحفظ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مذہبی آزادی اور مقدس ورثے کے تحفظ کا ایک عالمگیر معاملہ ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے تمام مقدس مقامات کو بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے اور وہاں عبادت گزاروں کی رسائی بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بنائی جائے۔