حکام کا کہنا ہے کہ صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے طبی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کی نوعیت اور محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملے کے ذمہ دار عناصر کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ملاقات کے دوران شرکاء نے بھی خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی یکجہتی اور مثبت بیانیے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات میں اس امر کی بھی توثیق کی گئی کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ شراکت داری باہمی مفادات کے تحفظ، علاقائی امن و استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے آئندہ بھی جاری رہے گی۔