اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مدارس کے اندر آئینِ پاکستان کی تعلیم لازمی کرنے کی ضرورت ہے، پیغام پاکستان بھی نصاب کا حصّہ ہونا چاہیئے۔ کوئی بھی نوجوان جب آئینِ پاکستان پڑھے گا تو اُسے سمجھ آ جائے گی کہ پاکستان ایک اِسلامی مُلک ہے۔

February 20, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بڑے پیمانے پر سرکاری فائلیں جاری کی جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف سائنسی برادری بلکہ عالمی سطح پر تحقیق کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کب تک اور کس حد تک یہ ریکارڈ عام کیا جائے گا۔

February 20, 2026

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔

February 20, 2026

عمر گل کو شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جسے بعض سرکاری حلقے فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں) کی جانب سے تدریسی سرگرمیاں ترک کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ انکار پر انہیں 2025 میں اغوا کر لیا گیا اور وہ مبینہ طور پر مسلح عناصر کی تحویل میں رہے۔

February 19, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے کردار کا عملی اعتراف ہے، خاص طور پر علاقائی استحکام، دہشت گردی کے خلاف تعاون، اقتصادی روابط اور بدلتی ہوئی عالمی صف بندی کے تناظر میں۔ ماضی میں پاکستان کی اہمیت کا ذکر زیادہ تر بیانات تک محدود سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ استقبال کو عملی طور پر اس کی اہمیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

February 19, 2026

مسلمان حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا خوارج کی اوّلین نشانی ہے، مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان

اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مدارس کے اندر آئینِ پاکستان کی تعلیم لازمی کرنے کی ضرورت ہے، پیغام پاکستان بھی نصاب کا حصّہ ہونا چاہیئے۔ کوئی بھی نوجوان جب آئینِ پاکستان پڑھے گا تو اُسے سمجھ آ جائے گی کہ پاکستان ایک اِسلامی مُلک ہے۔
مسلمان حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا خوارج کی اوّلین نشانی ہے، مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان

مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ ہمارا ملک کثیر الجہتی، کثیر المذاہب اور کثیرالمسالک ہے۔ جب اِن علاقوں میں ہندو اور سکھ ریاستیں قائم تھیں تو مسلمان علمااور صوفیا آئے تو ہم نے اپنے عمل سے امن کا درس دیا۔

February 20, 2026

چیئرمین وفاق المدارس الرّضویہ الاِسلامیہ، مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ پہلی دفعہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے علما اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ دہشتگردی عملی ہو، نظریاتی یا نفسیاتی، یہ قوم، مُلک اور اِسلام کے لیے نقصان دہ ہے۔

مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ پہلا موقع ہے کہ سارے مسالک اور سارے مذاہب بشمول اقلیتوں کے سب نے مشترکہ طور پر دہشتگردی کے خلاف ایک مشترکہ دستاویز پیغامِ پاکستان کے نام سے مرتب کی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اُس پر دنیا بھر کے 5200 علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں۔ اور یہ پہلا موقع ہے کہ علمائے کرام اِس بیانیے کو بیان بھی کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مدارس کے اندر آئینِ پاکستان کی تعلیم لازمی کرنے کی ضرورت ہے، پیغام پاکستان بھی نصاب کا حصّہ ہونا چاہیئے۔ کوئی بھی نوجوان جب آئینِ پاکستان پڑھے گا تو اُسے سمجھ آ جائے گی کہ پاکستان ایک اِسلامی مُلک ہے۔ ترلائی بم دھماکہ جو پاکستان کے عوام کو فرقہ وارانہ بُنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے کیا گیا، اُس کا اثر اِس کے برعکس ہوا اور سب اِس بات پر متفق نظر آئے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب یا مسلک نہیں ہوتا۔

فتنہ خوارج کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ اس فتنے کی فکری بنیادیں نبی کریم ﷺ کے زمانے کے فوراً بعد ظاہر ہونا شروع ہو گئیں تھیں اور یہ واحد فتنہ ہے جس کے بارے میں احادیث مبارکہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ خوارج نے پہلی دفعہ امیرالمومنین جناب حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف خروج کیا۔ اور اِن خوارج کی پہلی نشانی یہ ہے کہ یہ مسلمان حکومت یا مسلمان حکمران کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے ہیں جو کہ حرام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات نہیں دیکھی جائے گی کہ اُن کا قرآن پڑھنا کیسا ہے، اُن کا لباس کیسا ہے، اُن کا تقوٰی کیسا ہے۔ جب حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اتمامِ حجت کے لیے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو مذاکرات کے لیے بھیجا تو وہ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن اِتنا خوبصورت پڑھ رہے تھے کہ لگتا تھا قرآن اِن پر نازل ہو رہا ہے، سجدے لمبے کرتے تھے، نمازیں خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 1400 سال کے بعد پاکستان وہ پہلی ریاست ہے جو ریاستِ طیّبہ کی بنیاد پر کلمے کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ اِس کے قوانین اور آئین اِسلامی ہیں۔ اِس ریاست کے آئین کے شروع میں لکھ دیا گیا ہے کہ اِس ریاست میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا۔

’تو ایسی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کے بارے میں سوچنا اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسے لوگ خوارج ہیں جن کے بارے میں آقا کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اے علی کرم اللہ وجہہ، اِن سے آپ کا واسطہ پڑے گا اور قیامت تک ان کی مختلف شکلیں ظاہر ہوتی رہیں گی اور اِن کا آخری گروہ امام مہدی کی بجائے دجال کے ساتھ شامل ہوجائے گا۔‘

مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اِن خوارج نے کلمے کی بنیاد پر بننے والی ریاست کی بجائے ہندوؤں اور مشرکوں کے ساتھ الحاق کر لیا ہے جو کہ واضح نشانی ہے۔

خود کش کی برین واشنگ کیسے کی جاتی ہے؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ اِن لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ایک غیر اِسلامی ریاست ہے، کافروں کی آلہ کار ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیئے کہ دفاعی ادارے موجود ہیں تو یہ مُلک موجود ہے۔ جہاں ریاستی دفاعی ادارے نہیں رہتے اُن مُلکوں کا حال عراق، شام، افغانستان اور لیبیا جیسا ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خود کش بمباروں کو بتایا جاتا ہے کہ آپ اِن کے خلاف جائیں گے تو آپ کو جنت ملے گی۔ جبکہ آقا کریم ﷺ جنہوں نے عام حالات میں کبھی بھی سخت الفاظ استعمال نہیں کیے لیکن خوارج کے بارے میں فرمایا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں۔ اور فرمایا کہ اِن کے خلاف لڑنے والے اعلی درجے کے شہدا ہوں گے۔

وہ نوجوان جن کے پاس بنیادی علم ہی نہیں اُن کی ذہن سازی کر کے اِس طرح کی تخریب کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی بھی اسلامی ملک میں کفار کے بھی حقوق ہوتے ہیں اور اُن کو بھی آپ اِس طرح سے اذیت نہیں دے سکتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان ریاست میں اگر کسی مسیحی، کسی یہودی، کسی ذمّی کے خلاف بھی کوئی ظلم کیا جائے گا تو روزِ قیامت میں ﷺ اُس کی طرف سے وکیل ہوں گا۔

بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی اور علما کا کردار

مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ ہمارا ملک کثیر الجہتی، کثیر المذاہب اور کثیرالمسالک ہے۔ جب اِن علاقوں میں ہندو اور سکھ ریاستیں قائم تھیں تو مسلمان علمااور صوفیا آئے تو ہم نے اپنے عمل سے امن کا درس دیا۔

متعلقہ مضامین

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بڑے پیمانے پر سرکاری فائلیں جاری کی جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف سائنسی برادری بلکہ عالمی سطح پر تحقیق کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کب تک اور کس حد تک یہ ریکارڈ عام کیا جائے گا۔

February 20, 2026

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔

February 20, 2026

عمر گل کو شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جسے بعض سرکاری حلقے فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں) کی جانب سے تدریسی سرگرمیاں ترک کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ انکار پر انہیں 2025 میں اغوا کر لیا گیا اور وہ مبینہ طور پر مسلح عناصر کی تحویل میں رہے۔

February 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *