بھارتی سپریم کورٹ نے ازبکستان میں بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت کے استعمال سے 18 معصوم بچوں کی ہلاکت کے مقدمے میں سخت ترین ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوا ساز کمپنیوں کی مجرمانہ غفلت نے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں قائم بنچ نے نوئیڈا میں قائم ‘مارین بائیوٹیک’ کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے جس میں ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے تحت جاری کردہ عدالتی نوٹسز کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
عدالتی کارروائی اور برہمی
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کمپنی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے تلخ سوال کیا، “کیا آپ صرف پیسے کے لیے ایسا کرتے ہیں؟ کیا آپ کو احساس ہے کہ اس کی وجہ سے ملک کی ساکھ کس قدر متاثر ہوئی ہے؟” عدالت نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت کی ساکھ سے کھیلنے والوں کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ اب کمپنی کے ذمہ داران کو غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ ادویات کی تیاری کے الزامات پر نچلی عدالت میں ٹرائل کا سامنا کرنا ہو گا۔
بچوں کی اموات اور زہریلے مواد
یہ بحران دسمبر 2022 میں اس وقت شروع ہوا جب ازبکستان میں مارین بائیوٹیک کی تیار کردہ ادویات پینے سے 18 بچے، جن کی عمریں 6 سال سے کم تھیں، گردے فیل ہونے کے باعث جاں بحق ہو گئے۔ عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات میں ثابت ہوا کہ ان شربتوں میں انتہائی زہریلا مادہ ‘ایتھیلین گلائیکول’ شامل تھا۔ اس واقعے پر ازبکستانی عدالتوں نے پہلے ہی 23 افراد کو سزائیں سنائی ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے بھاری ہرجانے کا حکم دیا ہے۔
گیمبیا سے مدھیہ پردیش تک
رپورٹ کے مطابق یہ کوئی واحد واقعہ نہیں بلکہ بھارتی ادویات کے معیار میں ناکامی کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ 2022 میں ‘میڈن فارماسیوٹیکلز’ کے تیار کردہ شربت سے گیمبیا میں 70 بچے لقمہ اجل بنے تھے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ اکتوبر 2025 میں خود بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں بھی تمل ناڈو کی کمپنی ‘سریسن فارماسیوٹیکلز’ کے شربت پینے سے 17 بچوں کی موت واقع ہوئی، جن میں زہریلے مادے کی مقدار محفوظ حد سے کہیں زیادہ پائی گئی۔
عالمی نگرانی اور ‘فارمیسی آف دی ورلڈ’ کا لقب
ان پے در پے اسکینڈلز نے بھارت کے ‘فارمیسی آف دی ورلڈ’ ہونے کے دعوے پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے زور دیا کہ ایسی ناکامیاں بھارت کی برآمدات پر عالمی نگرانی کو سخت کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اب بین الاقوامی دباؤ کے باعث اپنی ہی کمپنیوں کے خلاف سخت گیر رویہ اپنا کر اپنی بچی کھچی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔