امارتِ اسلامی افغانستان میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں تیز

افغانستان میں طالبان حکومت کا سب سے بڑا چیلنج داخلی اتحاد اور عالمی قبولیت ہے۔ ملا ہیبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں نے نہ صرف عالمی دباؤ بڑھایا بلکہ طالبان کے اندر بھی اختلافات کو ہوا دی۔ اگر قیادت میں تبدیلی عمل میں آتی ہے تو یہ طالبان کے لیے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ ہوگا، جس کا مقصد ممکنہ طور پر افغانستان کو سفارتی تنہائی سے نکالنا اور نظامِ حکومت کو زیادہ قابلِ عمل بنانا ہو سکتا ہے۔
خوف یا کچھ اور؟ ہیبت اللہ اخوندزادہ تک رسائی محدود کر دی گئی، 7گورنروں کے ذریعے حکومت چلانے کا فیصلہ

جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔