بریکنگ نیوز

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

⦿اہم ترین

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

پاک افغان کشیدگی میں اضافہ، خوست اور وزیرستان سرحد پر شدید جھڑپیں جاری

ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

آپریشن غضب للحق میں طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 سے زائد زخمی ہوئے، آپریشن جاری رہے گا؛ ڈی جی آئی ایس پی آر

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

ایس ای سی پی نے غیر ملکی کمپنیوں کے انخلاء کا گمراہ کن بیانیہ مسترد کر دیا؛ 1977 کے اعداد و شمار کو حالیہ دور سے منسوب کرنا غلط، گزشتہ تین سالوں میں 79 نئی کمپنیوں کی آمد نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ثابت کر دیا

مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو برآمد کنندگان کو ریلیف دینا ہوگا۔اسی طرح مقامی کاروبار وں کی ترقی کے لئے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،معاشی سر گرمیاں عروج پکڑنے سے ٹیکس محصولات کے اہداف پورے ہوں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی فورسز کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں 12 افغان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

خیبر پختونخوا حکومت نے ذبیح اللہ مجاہد کے پاک افغان سرحدی کشیدگی سے متعلق دعوے کو فیکٹ چیک میں غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیئر کی گئی تصویر وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے شہداء کی ہے جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا

بلوچستان میں "لاپتہ افراد" کے نام پر چلائی جانے والی مہمات کا پول اس وقت کھل گیا جب بی وائی سی کی جانب سے برسوں "لاپتہ" قرار دیے جانے والے سلیم بلوچ کو بی ایل اے نے اپنا دہشت گرد کمانڈر تسلیم کر لیا، جس سے ان تنظیموں کا جھوٹا بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے

جس طریقے سے فلسطین میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کیے، انہیں بے دخل کیا، ان سے زمینیں چھینیں، شہریت کے قوانین کے ذریعے ان کا استحصال کیا، انہیں در بدر کر کے بکھیر دیا، ان کی جائیدادیں ہتھیا لیں، نوآبادیاتی طرز پر ریاستی زمین کے اصول کے نام پر انہیں اپنی ہی سر زمین پر محکوم بنا دیا، بالکل اسی طرح اسی طرز پر بھارت کشمیر میں اسرائیلی فار مولے کے تحت اس کی مشاورت اور اعانت سے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین کسی بھی مسلح گروہ کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کا نتیجہ بمباری، پابندیوں اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسی کسی ناگہانی صورت میں کیا ایرانی رجیم امت مسلمہ کی ناراضگی مول لینے کی متحمل ہو سکے گی؟ جبکہ وہ اپنی معاندانہ پالیسیوں کی بدولت پہلے ہی مسلم دنیا میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود اگر ایرانی رجیم ایسی حماقت کرتی ہے ۔ تو ایسی صورت میں مسلمان اور نصاریٰ کا اتحاد ایرانی رجیم کے بستر گول کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو شاید ایرانی رجیم کو منظور نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایرانی رجیم اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امریکی اڈوں کووقتاََ فوقتاََ نشانہ تو بنائے ، لیکن احتیاط کے ساتھ۔ تاکہ ان حملوں سے کوئی مسلمان شہید نہ ہو۔

یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ، جہاں اگر قبضہ کر بھی لیا جائے تو برقراررکھنا مشکل ہے کیونکہ ایک طویل سپلائی لائن بنانا پڑے گی۔ اس کی غیر معمولی حساسیت کی ایک وجہ چینی سرحد سے متصل ہونا بھی ہے۔ چین اس بارے میں بہت حساس اور اس حوالے سے معمولی سی بے چینی یا اضطراب بھی برداشت نہیں کر پائے گا۔

یہ بھی ایک تسلیم شدہ حربہ ہے کہ دہشت گرد عناصر شہری آبادی، خواتین یا مذہبی مقامات کی آڑ لیتے ہیں تاکہ جوابی کارروائی کو متنازع بنایا جا سکے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن ہے بلکہ شریعت کی صریح خلاف ورزی بھی یے۔ رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے آداب بیان کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت دی (سنن ابی داؤد)۔ مگر جو خود شہریوں کو ڈھال بنائے، وہی دراصل انہیں خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ مظلومیت کا بیانیہ گھڑ کر اصل ذمہ داری سے فرار کی کوشش ہے۔

سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔

پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے

اب مصلحت نہیں، فیصلہ کُن جواب کا وقت ہے

پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے

مقبول خبریں

طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلی کارروائی میں ننگرہار کے علاقے میں واقع ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے ذبیح اللہ مجاہد کے پاک افغان سرحدی کشیدگی سے متعلق دعوے کو فیکٹ چیک میں غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیئر کی گئی تصویر وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے شہداء کی ہے جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا

پاک افغان سرحدی جھڑپوں میں ہلاک افغان اہلکاروں کی تصاویر منظرِ عام پر آگئی ہیں، تاہم جانی نقصان کی اصل تعداد اور دیگر تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء؛ محمد نواز کی 100 وکٹیں مکمل، شاداب خان 100 وکٹیں اور 1000 رنز کا سنگِ میل عبور کرنے والے پہلے پاکستانی آل راؤنڈر بن گئے

آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کے لیے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کی تفصیلات جاری کر دیں؛ بنگلہ دیش، افغانستان اور آئرلینڈ کی براہِ راست شرکت یقینی

شوبز

اداکارہ صحیفہ جبار نے ڈراما انڈسٹری کے غیر پیشہ ورانہ ماحول، سیٹس پر سہولیات کی کمی اور کہانیوں کے گرتے ہوئے معیار کو بے نقاب کر دیا

کونن پوشپورہ: 1991 کی وہ رات جو آج بھی کشمیری خواتین کے دل دہلا دیتی ہے

کونن پوشپورہ: 1991 کی وہ رات جو آج بھی کشمیری خواتین کے دل دہلا دیتی ہے

کونن پوشپورہ کا واقعہ آج بھی خطے کی سیاست، انسانی حقوق کی بحث اور پاکستان-بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک حساس موضوع ہے۔ جب تک الزامات اور جوابی بیانات سے آگے بڑھ کر غیر جانبدار احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا کہ انصاف کب اور کیسے ممکن ہوگا۔

پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی پوزیشنز پر جوابی حملوں کے آغاز کے فوراً بعد قطر نے سفارتی سرگرمی تیز کی ہے۔ اس سے قبل بھی افغان طالبان کو بچانے کیلئے قطر متعدد بار سامنے آتا رہا ہے۔

ڈاکٹر خرم الٰہی کی گفتگو سے پتہ چلا کہ آجکل سوشل میڈیا پرعلامہ اقبال کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم چل رہی ہے ۔جب انہوں نے الزامات لگانے والوں کو چیلنج کیا کہ ثبوت سامنے لاؤ تو الزامات لگانے والے غائب ہو گئے ۔ تقریب تقسیم انعامات کے بعد اسلام ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو کی اُساتذہ اور ڈاکٹر خرم الٰہی کے ساتھ علامہ اقبال کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم پر بڑی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔

ویسے 25 کروڑ انسانوں میں سے کتنوں نے چکور بچشم دیکھا ہے؟ اور چکور بھی کیسا سادہ لوح ہے کہ آج تک چاند چھونے کی آس میں اڑتے اڑتے شکاری بندوقوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ جیسے عام آدمی مثالی انتظام کی کھوج میں ذلت کی فضا میں مسلسل پھڑپھڑا رہا ہے اور تھک کے گر رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تجارتی اقدامات کی منسوخی کے بعد چین کا سخت ردِعمل؛ بیجنگ نے واشنگٹن سے یکطرفہ ٹیرف فوری ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی ساتویں سالگرہ پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سروس چیفس نے مسلح افواج کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دفاعِ وطن کے عزم کو دہرایا ہے

وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

دونوں جانب سے باقاعدہ مکالمے اور تکنیکی سطح پر روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ طے شدہ امور پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس امر پر اتفاق ہوا کہ مسلسل تعاون ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی اور ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

ملک کی معروف مذہبی سیاسی جماعت نے فتنۃ الخوارج کے خلاف 'آپریشن غضب للحق' کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان، اسرائیل اور بھارت کے ایما پر پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے

پاک افغان سرحدی جھڑپوں میں ہلاک افغان اہلکاروں کی تصاویر منظرِ عام پر آگئی ہیں، تاہم جانی نقصان کی اصل تعداد اور دیگر تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں