بھارت کا “تنہا پاکستان” کا بیانیہ دم توڑ گیا۔ پاکستان نے کامیاب سول ملٹری ہم آہنگی اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے دوبارہ عالمی سفارتی مرکز میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔
پاکستان میں عسکری حملوں میں 42 فیصد کمی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ‘آپریشن غضب للحق’ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سیاسی و سماجی اصلاحات اور مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔
افغان طالبان نے لوگر تانبا منصوبے میں تاخیر پر چینی کمپنیوں سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جبکہ کابل دھماکے کے بعد چینی باشندوں کی نقل و حرکت محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں عسکری حملوں میں 42 فیصد کمی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ‘آپریشن غضب للحق’ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سیاسی و سماجی اصلاحات اور مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان سرحد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے طالبان حکومت کی سفاکیت قرار دے دیا؛ باجوڑ میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہریوں کی شہادت پر گہری تشویش کا اظہار۔

ضلع باجوڑ میں افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے خواتین اور بچوں سمیت 9 شہری شہید اور 12 زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔

مقبوضہ کشمیر کے مغل خاندان کے دو بھائیوں کی 26 سال کے وقفے سے ہلاکتیں؛ بھارتی فوج کے ہاتھوں راشد مغل کی جعلی مقابلے میں شہادت نے کشمیریوں کے زخم تازہ کر دیے۔

مہم کے پیغامات میں عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

سیاسی مخالفین کا کہنا تھا کہ مظفرآباد میں تحریک انصاف کے کارکنوں سے زیادہ تو کرسیاں ترتیب میں نظر آئیں۔ سینئر صحافیوں نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کے سرکاری ہیلی کاپٹر پر آنے کے باوجود جلسہ گاہ کی نصف کے قریب نشستیں خالی پڑی رہیں۔