تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے کردار کا عملی اعتراف ہے، خاص طور پر علاقائی استحکام، دہشت گردی کے خلاف تعاون، اقتصادی روابط اور بدلتی ہوئی عالمی صف بندی کے تناظر میں۔ ماضی میں پاکستان کی اہمیت کا ذکر زیادہ تر بیانات تک محدود سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ استقبال کو عملی طور پر اس کی اہمیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ ’وزیر اعظم شریف۔۔۔ مجھے یہ آدمی پسند ہے۔ آپ کے فیلڈ مارشل بھی بہترین آدمی ہیں۔ فیلڈ مارشل سخت جان اور اچھے جنگجو ہیں اور میں اچھے جنگجوؤں کو پسند کرتا ہوں۔‘
حکام کے مطابق ایپل اس سے قبل انڈونیشیا، ملیشیا اور انڈیا میں بھی اسی ماڈل پر کام کر چکی ہے، جہاں ابتدا پرانے فونز کی مرمت سے کی گئی اور بعد ازاں مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت ہوئی۔

2024 میں بنگلہ دیش کے سیاسی بحران، جیلوں سے قیدیوں کے فرار اور اسلحے کے پھیلاؤ نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس سے انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ بنگلہ دیش میں پہلے سے موجود شدت پسند تنظیمیں، جیسے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)، حرکت الجہاد الاسلامی بنگلہ دیش (ہوجی-بی) اور انصار الاسلام، ایک نظریاتی ماحول فراہم کرتی رہی ہیں جس میں بیرونی گروہوں کے لیے جڑیں مضبوط کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ “آئی کے رہائی فورس” کا انجام بھی “پی ٹی آئی ٹائیگرز” جیسا ہو سکتا ہے یعنی ایک ایسا منصوبہ جو تنظیمی ڈھانچے، قانونی جواز اور عملی حکمت عملی کے فقدان کے باعث مؤثر کردار ادا نہ کر سکے۔

بلوچستان میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کوئٹہ اور بارکھان میں 14 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ کاروائی کے دوران زخمی ہونے والے تین اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے

آزاد جموں و کشمیر میں حکومت کے خاتمے کی خبریں بے بنیاد ثابت؛ ن لیگ کے رہنماؤں نے بھی تبدیلی کی تردید کر دی

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ نے وادیٔ چناب میں بھارتی ڈیم سازی کے تباہ کن اثرات بے نقاب کر دیے، جس سے بیس ہزار سے زائد مقامی آبادی کی بے دخلی اور ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے

سی آئی ایس ایس اے جے کے اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس تعاون کا مقصد علاقائی سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جوہری سیاست پر باخبر مکالمے کو فروغ دینا ہے