روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان میں 23 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے فتنہ الخوارج کے کمانڈر کے اعتراف نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی افغان صوبہ کنڑ میں موجود ٹھکانوں سے کنٹرول کی جا رہی ہے، جس سے طالبان کے انکار پر مبنی مؤقف پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
وفاقی وزیر عطاء تارڑ نے پاکستان کے خلاف بیرونِ ملک سے چلائی جانے والی منظم منفی مہم کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ بھارتی میڈیا اینکر ارنب گوسوامی کو ریٹنگ کے لیے اخلاقی حدود پامال کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

بیجنگ سربراہی ملاقات نے ایک ایسے دور کا آغاز کیا ہے جسے ہم “تعمیری مسابقت” کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کی چوبیس ستمبر کی دعوت پر صدر شی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ ان معاہدات پر مہرِ تصدیق ہوگی۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پر تائیوان، انسانی حقوق اور سمندری حدود جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

باجوڑ کے ڈمانگی کیمپ حملے کی تحقیقات میں خودکش حملہ آور کی شناخت جلال الدین عرف سجاد (افغان شہری) کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر ہلاک دہشت گرد بھی افغان قرار دیے گئے ہیں۔

پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبر پختونخوا پولیس کا بجٹ کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود فورس وسائل کی کمی کا شکار ہے، جس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پرامن تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ ہی آگے بڑھنے کا واحد منطقی راستہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کرے اور اس کے بجائے پاک بھارت مذاکرات اور سفارتی مشغولیت کی فعال حمایت کرے۔

ضلع کشتواڑ میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک استاد، مشکور احمد کو کالے قانون “یو اے پی اے” کے تحت گرفتار کیا گیا. پولیس نے ان پر آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے تاکہ اس غیر قانونی گرفتاری کو جواز فراہم کیا جا سکے۔

یہ افسوسناک واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب پیش آیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔