بریکنگ نیوز

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلی کارروائی میں ننگرہار کے علاقے میں واقع ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی پوزیشنز پر جوابی حملوں کے آغاز کے فوراً بعد قطر نے سفارتی سرگرمی تیز کی ہے۔ اس سے قبل بھی افغان طالبان کو بچانے کیلئے قطر متعدد بار سامنے آتا رہا ہے۔

⦿اہم ترین

طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

افغان اشتعال انگیزی پر پاکستانی فورسز کا منہ توڑ جواب، 22 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ

سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان سے منسلک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے دعوے اور مبینہ جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ زمینی حقائق کو مسخ کیا جا سکے۔

آپریشن غضب للحق جاری، پاکستان نے افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے متعدد افغان چوکیاں تباہ کر دیں

سکیورٹی حکام کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی فورسز کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں 12 افغان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ہم نے افغانستان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور اب بھی سرحد پر کشیدگی جاری ہے؛ وزارت اطلاعات کا بیان

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور سرحدی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

ایس ای سی پی نے غیر ملکی کمپنیوں کے انخلاء کا گمراہ کن بیانیہ مسترد کر دیا؛ 1977 کے اعداد و شمار کو حالیہ دور سے منسوب کرنا غلط، گزشتہ تین سالوں میں 79 نئی کمپنیوں کی آمد نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ثابت کر دیا

مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو برآمد کنندگان کو ریلیف دینا ہوگا۔اسی طرح مقامی کاروبار وں کی ترقی کے لئے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،معاشی سر گرمیاں عروج پکڑنے سے ٹیکس محصولات کے اہداف پورے ہوں گے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی فورسز کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں 12 افغان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بلوچستان میں "لاپتہ افراد" کے نام پر چلائی جانے والی مہمات کا پول اس وقت کھل گیا جب بی وائی سی کی جانب سے برسوں "لاپتہ" قرار دیے جانے والے سلیم بلوچ کو بی ایل اے نے اپنا دہشت گرد کمانڈر تسلیم کر لیا، جس سے ان تنظیموں کا جھوٹا بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے

سوشل میڈیا پر شمالی وزیرستان میں تانبے کے ذخائر سے متعلق مضحکہ خیز دعویٰ بے نقاب؛ عالمی ادارے کے اعداد و شمار نے ریاست مخالف پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا

جس طریقے سے فلسطین میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کیے، انہیں بے دخل کیا، ان سے زمینیں چھینیں، شہریت کے قوانین کے ذریعے ان کا استحصال کیا، انہیں در بدر کر کے بکھیر دیا، ان کی جائیدادیں ہتھیا لیں، نوآبادیاتی طرز پر ریاستی زمین کے اصول کے نام پر انہیں اپنی ہی سر زمین پر محکوم بنا دیا، بالکل اسی طرح اسی طرز پر بھارت کشمیر میں اسرائیلی فار مولے کے تحت اس کی مشاورت اور اعانت سے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین کسی بھی مسلح گروہ کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کا نتیجہ بمباری، پابندیوں اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسی کسی ناگہانی صورت میں کیا ایرانی رجیم امت مسلمہ کی ناراضگی مول لینے کی متحمل ہو سکے گی؟ جبکہ وہ اپنی معاندانہ پالیسیوں کی بدولت پہلے ہی مسلم دنیا میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود اگر ایرانی رجیم ایسی حماقت کرتی ہے ۔ تو ایسی صورت میں مسلمان اور نصاریٰ کا اتحاد ایرانی رجیم کے بستر گول کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو شاید ایرانی رجیم کو منظور نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایرانی رجیم اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امریکی اڈوں کووقتاََ فوقتاََ نشانہ تو بنائے ، لیکن احتیاط کے ساتھ۔ تاکہ ان حملوں سے کوئی مسلمان شہید نہ ہو۔

یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ، جہاں اگر قبضہ کر بھی لیا جائے تو برقراررکھنا مشکل ہے کیونکہ ایک طویل سپلائی لائن بنانا پڑے گی۔ اس کی غیر معمولی حساسیت کی ایک وجہ چینی سرحد سے متصل ہونا بھی ہے۔ چین اس بارے میں بہت حساس اور اس حوالے سے معمولی سی بے چینی یا اضطراب بھی برداشت نہیں کر پائے گا۔

یہ بھی ایک تسلیم شدہ حربہ ہے کہ دہشت گرد عناصر شہری آبادی، خواتین یا مذہبی مقامات کی آڑ لیتے ہیں تاکہ جوابی کارروائی کو متنازع بنایا جا سکے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن ہے بلکہ شریعت کی صریح خلاف ورزی بھی یے۔ رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے آداب بیان کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت دی (سنن ابی داؤد)۔ مگر جو خود شہریوں کو ڈھال بنائے، وہی دراصل انہیں خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ مظلومیت کا بیانیہ گھڑ کر اصل ذمہ داری سے فرار کی کوشش ہے۔

سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔

مودی کا دورہ اسرائیل اور پاکستان کی سکیورٹی پر اس کے اثرات

مودی کا دورہ اسرائیل اور پاکستان کی سکیورٹی پر اس کے اثرات

اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، علاقائی روابط اور سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرے۔ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور بیانیے کی برتری سے بھی قائم رہتا ہے۔

مقبول خبریں

جس طریقے سے فلسطین میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کیے، انہیں بے دخل کیا، ان سے زمینیں چھینیں، شہریت کے قوانین کے ذریعے ان کا استحصال کیا، انہیں در بدر کر کے بکھیر دیا، ان کی جائیدادیں ہتھیا لیں، نوآبادیاتی طرز پر ریاستی زمین کے اصول کے نام پر انہیں اپنی ہی سر زمین پر محکوم بنا دیا، بالکل اسی طرح اسی طرز پر بھارت کشمیر میں اسرائیلی فار مولے کے تحت اس کی مشاورت اور اعانت سے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔

بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور بائیں بازو کی قیادت نے مودی کی اسرائیل حمایت پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل کی غیر مشروط حمایت بھارت کی تاریخی فلسطین نواز پالیسی سے انحراف ہے۔

اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، علاقائی روابط اور سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرے۔ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری اور بیانیے کی برتری سے بھی قائم رہتا ہے۔

پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے عدالتی آداب کے برعکس رویوں پر قانونی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر زور دیا ہے

معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ نے پاک افغان مذاکرات کو ایک 'سراب' قرار دیتے ہوئے طالبان کے بیانیے اور اقدامات میں موجود تضاد کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء؛ محمد نواز کی 100 وکٹیں مکمل، شاداب خان 100 وکٹیں اور 1000 رنز کا سنگِ میل عبور کرنے والے پہلے پاکستانی آل راؤنڈر بن گئے

آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کے لیے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کی تفصیلات جاری کر دیں؛ بنگلہ دیش، افغانستان اور آئرلینڈ کی براہِ راست شرکت یقینی

شوبز

اداکارہ صحیفہ جبار نے ڈراما انڈسٹری کے غیر پیشہ ورانہ ماحول، سیٹس پر سہولیات کی کمی اور کہانیوں کے گرتے ہوئے معیار کو بے نقاب کر دیا

کونن پوشپورہ: 1991 کی وہ رات جو آج بھی کشمیری خواتین کے دل دہلا دیتی ہے

کونن پوشپورہ: 1991 کی وہ رات جو آج بھی کشمیری خواتین کے دل دہلا دیتی ہے

کونن پوشپورہ کا واقعہ آج بھی خطے کی سیاست، انسانی حقوق کی بحث اور پاکستان-بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک حساس موضوع ہے۔ جب تک الزامات اور جوابی بیانات سے آگے بڑھ کر غیر جانبدار احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا کہ انصاف کب اور کیسے ممکن ہوگا۔

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی پوزیشنز پر جوابی حملوں کے آغاز کے فوراً بعد قطر نے سفارتی سرگرمی تیز کی ہے۔ اس سے قبل بھی افغان طالبان کو بچانے کیلئے قطر متعدد بار سامنے آتا رہا ہے۔

وزیرِ مملکت طلال چوہدری کا دورۂ ترکیہ؛ سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے لیے ترکیہ کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ڈاکٹر خرم الٰہی کی گفتگو سے پتہ چلا کہ آجکل سوشل میڈیا پرعلامہ اقبال کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم چل رہی ہے ۔جب انہوں نے الزامات لگانے والوں کو چیلنج کیا کہ ثبوت سامنے لاؤ تو الزامات لگانے والے غائب ہو گئے ۔ تقریب تقسیم انعامات کے بعد اسلام ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو کی اُساتذہ اور ڈاکٹر خرم الٰہی کے ساتھ علامہ اقبال کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم پر بڑی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔

ویسے 25 کروڑ انسانوں میں سے کتنوں نے چکور بچشم دیکھا ہے؟ اور چکور بھی کیسا سادہ لوح ہے کہ آج تک چاند چھونے کی آس میں اڑتے اڑتے شکاری بندوقوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ جیسے عام آدمی مثالی انتظام کی کھوج میں ذلت کی فضا میں مسلسل پھڑپھڑا رہا ہے اور تھک کے گر رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان سے منسلک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے دعوے اور مبینہ جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ زمینی حقائق کو مسخ کیا جا سکے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلی کارروائی میں ننگرہار کے علاقے میں واقع ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تجارتی اقدامات کی منسوخی کے بعد چین کا سخت ردِعمل؛ بیجنگ نے واشنگٹن سے یکطرفہ ٹیرف فوری ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز واقعات کی اکثریت ان ریاستوں میں پیش آئی جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسرِاقتدار ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور اشتعال انگیز تقاریر کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

دونوں جانب سے باقاعدہ مکالمے اور تکنیکی سطح پر روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ طے شدہ امور پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس امر پر اتفاق ہوا کہ مسلسل تعاون ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی اور ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قطری وزیرِ مملکت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات؛ رمضان میں بزنس ٹاسک فورس کا اجلاس بلانے اور قطری سرمایہ کاری کی تجاویز پر عملدرآمد کا فیصلہ

بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور بائیں بازو کی قیادت نے مودی کی اسرائیل حمایت پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل کی غیر مشروط حمایت بھارت کی تاریخی فلسطین نواز پالیسی سے انحراف ہے۔