خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔
کیا افغانستان واقعی کبھی فتح نہیں ہوا؟ ایچ ٹی این کی اس خصوصی رپورٹ میں سکندرِ اعظم، چنگیز خان اور بابر سمیت ان تمام فاتحین کا ذکر ہے جنہوں نے اس خطے کو مسخر کیا
حکومتِ افغانستان نے پاکستان کے انتباہ کے بعد شہریوں کو پرسکون رہنے، غیر ضروری سفر سے بچنے اور سیکیورٹی حکام سے تعاون کی ہدایت جاری کر دی ہے

پاکستان نے دہائیوں تک افغانستان کا بوجھ اٹھایا، مگر کابل نے اسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور بھارتی کالونی بنا کر جواب دیا۔ وزیر دفاع کا حالیہ بیان اس طویل صبر کے خاتمے اور اب فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان ہے

نبیل ارمان کے حوالے سے جاری تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ محض ایک طالب علم نہیں بلکہ کالعدم بی ایل اے کے میڈیا ونگ اور آن لائن بھرتیوں کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں

پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے عدالتی آداب کے برعکس رویوں پر قانونی ماہرین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری پر زور دیا ہے

مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتیار میں بھارتی فوج نے تین مقامی نوجوانوں کو حراست میں لینے کے بعد جعلی مقابلے میں شہید کر دیا اور ثبوت مٹانے کے لیے ان کے اجسام کو کیمیکلز سے جلا ڈالا

کونن پوشپورہ کا واقعہ آج بھی خطے کی سیاست، انسانی حقوق کی بحث اور پاکستان-بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک حساس موضوع ہے۔ جب تک الزامات اور جوابی بیانات سے آگے بڑھ کر غیر جانبدار احتساب کا نظام قائم نہیں ہوتا، یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا کہ انصاف کب اور کیسے ممکن ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا لاشوں کو جلانے جیسے الزامات بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔