امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ غیر متوقع اقدام کے لیے تیار ہیں، اور تہران کو بامعنی مذاکرات کے بغیر مسلسل قیمت چکانی پڑے گی۔
پکتیا میں طالبان کے نائب وزیرِ دفاع کے قافلے پر حملے اور اس میں ٹی ٹی پئ رہنما کی موجودگی نے پاکستان کے تحفظات درست ثابت کر دیے ہیں، جبکہ ابھرتی مزاحمت سے طالبان کی حکومتی رٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو۔
عرب میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران نے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی آمادگی سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
المرصاد جیسے پلیٹ فارمز کے منفی پراپیگنڈے کا مقصد بلوچ اور پشتون عوام میں تفرقات پیدا کرنا ہے۔ ان حالات میں ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔