خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔

باجوڑ حملے میں افغان عسکریت پسندوں کی شمولیت اور یورپی یونین کی لیک شدہ خفیہ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان اس وقت نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔

بلوچستان کے علاقے منگلہ زرغون غر میں 13 مئی سے جاری سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ ہندوستان کے 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور 3 کمانڈرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔

مہاجر نشستوں کو متنازع بنانا دراصل پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مشترکہ اور دیرینہ مؤقفِ استصوابِ رائے پر وار کرنے کے مترادف ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے عوام ہمیشہ سے پاکستان کے دل کے قریب رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شدید ترین معاشی مشکلات اور وفاقی سطح پر سخت بجٹ کے باوجود حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر نے یہاں کے عوام کو آٹا، بجلی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی اور اربوں روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔