اسی تناظر میں ایک اور معاملے میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈین نژاد پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالر سلمان مبینہ طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے اور اس وقت قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران معلوماتی محاذ بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں بیانیے اور سوشل میڈیا مہمات کو سفارتی اور سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
جنیوا میں جاری سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے جو بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا بھی لحاظ نہیں رکھا جا رہا۔ ترجمان کے مطابق یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ان عناصر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

آواران سے تعلق رکھنے والی طالبہ ثانیہ کے والد نے پریس کانفرنس میں بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے اور بی وائی سی جیسے گروہ نوجوان لڑکیوں کو جھوٹے نعروں سے ورغلا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں

آزاد جموں و کشمیر میں حکومت کے خاتمے کی خبریں بے بنیاد ثابت؛ ن لیگ کے رہنماؤں نے بھی تبدیلی کی تردید کر دی

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ نے وادیٔ چناب میں بھارتی ڈیم سازی کے تباہ کن اثرات بے نقاب کر دیے، جس سے بیس ہزار سے زائد مقامی آبادی کی بے دخلی اور ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے

سی آئی ایس ایس اے جے کے اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس تعاون کا مقصد علاقائی سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جوہری سیاست پر باخبر مکالمے کو فروغ دینا ہے