حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور چین کے ساتھ اس عمل میں مسلسل شریک ہے، تاہم دیرپا حل کیلئے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ جاری آپریشن “غضب للحق” میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور سکیورٹی فورسز حالیہ دنوں میں بھی انسداد دہشتگردی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت پر نجی جائیدادوں پر قبضے کے الزامات شدت اختیار کر گئے، آریانہ یونیورسٹی اور دانشمل ہسپتال بھی مبینہ طور پر چھین لیے گئے

صحافت کی بنیاد ہی حقائق کی غیر جانبدارانہ فراہمی پر استوار ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے پاک افغان تعلقات کے حالیہ تناظر میں سرحد پار سے صحافت کے لبادے میں جس طرح ’ڈس انفارمیشن‘ یا غلط معلومات کو ایک نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس نے پیشہ ورانہ صحافت کے اعلیٰ اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے

ان کے والد عبدالغفار لنگو کو ماضی میں بی ایل اے سے منسلک کمانڈر قرار دیا گیا، جو ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشتگرد تنظیم ہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایسے فورمز سے محتاط رہے جو علیحدگی پسند بیانیے کو تقویت دیتے ہیں، اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرے۔

بھارتی وزارتِ داخلہ نے مقبوضہ جموں کشمیر کو زلزلے کے لحاظ سے انتہائی خطرناک قرار دے دیا، جس کے بعد علاقے میں حفاظتی اقدامات کے فقدان پر سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل الزامات، اشتعال انگیزی اور نئے تنازعات پیدا کرنے کا عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تحریک عوامی مسائل کے حل سے زیادہ سیاسی فائدے کے حصول پر مرکوز ہو چکی ہے۔

سرینگر میں سخت پابندیوں کے باوجود آسیہ اندرابی کی رہائی کے لیے احتجاج؛ لاہور میں بھی حریت رہنما کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف خواتین کا بڑا مظاہرہ