پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی رویوں پر اثر انداز ہونے کی بھرپور صلاحیت دکھائی ہے۔ حالیہ فوجی جھڑپوں میں بھارت کی نام نہاد برتری کے تاثر کو زائل کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ 'اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ' طے پانے نے پاکستان کو خطے میں ایک اہم 'سیکیورٹی پرووائیڈر' بنا دیا ہے۔
یہ محض ایک قتل نہیں بلکہ اسماعیلی کمیونٹی کے خلاف جاری ٹارگٹڈ تشدد کے ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان بھی اسماعیلی فرقے کے کم از کم تین افراد کو قتل کیا گیا، مگر اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
ایران نے اپنے زیرِ زمین سٹوریج مراکز کو بحال کر لیا ہے اور وہ نہ صرف خراب میزائلوں کی مرمت کر رہا ہے بلکہ نئے میزائل بھی تیار کر رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار صدر ٹرمپ کے ان بیانات کی نفی کرتے ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی معیشت مفلوج ہو چکی ہے اور ان کے پاس فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہیں۔
افغان اسپیشل فورسز کے اہلکار کا ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستانی حدود میں لڑنا محض 'انفرادی فعل' نہیں بلکہ یہ کابل کے ان دعوؤں کی نفی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا
پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔