امریکہ، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور یو اے ای سمیت متعدد ممالک کی بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کی شدید مذمت

امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 31 جنوری کو بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کی ہے، جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی، جو امریکا کی جانب سے نامزد غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔
بلوچستان میں گزشتہ روز تمام حملے ناکام، 92 دہشت گرد ہلاک ہوئے؛ سکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں اور 18 معصوم شہریوں نے جام شہادت نوش کیا

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور عوامی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے نہایت بزدلانہ حملے کیے۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے جان بوجھ کر 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور محنت کش مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کر گئے۔
اسرائیل نے غزہ پیس بورڈ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مزید 31 فلسطینیوں کو شہید کر دیا

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپریشن ہیروف ناکام: پاکستانی فورسز کی فتح اور درپیش چیلنجز

عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔
دہشت گردوں کی واضح حمایت کے کیس کے باوجود ایمان مزاری کی حمایت پر پاکستانی حکام نے یورپی یونین کو آڑے ہاتھوں لے لیا

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ڈیجیٹل پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور دہشت گرد بیانیے کو فروغ دینے پر دی گئیں، جبکہ قانون کے مطابق اپیل کا مکمل حق بھی دستیاب ہے۔ ان کے مطابق اس قانونی عمل کو جبر یا اظہارِ رائے کی پابندی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، بلکہ یہ ملکی قانون کا نفاذ ہے۔
ننگرہار کے لالپور ضلع میں طالبان اور پاکستانی بارڈر فورسز کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات

ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ ایک حساس سرحدی علاقے میں ہوئی، تاہم تاحال نہ طالبان حکام اور نہ ہی پاکستانی حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ واقعے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکیں۔
”علیحدگی پسند تنظیم” یا ”بے رحم مسلح دہشت گرد گروہ”؛ ماہرین نے الجزیرہ کو حقائق کا آئینہ دکھا دیا

بی ایل اے کے حملوں میں مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ گروہ کسی عوامی مقصد یا سیاسی ایجنڈے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کو “سیاسی مزاحمت” کا رنگ دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔