پکتیکا میں ڈرون حملہ: نورولی محسود کے مرکز پر بمباری، اہم کمانڈرز کی ہلاکت کی اطلاعات

پکتیکا میں ڈرون حملہ: نورولی محسود کے مرکز پر بمباری، اہم کمانڈرز کی ہلاکت کی اطلاعات

مارے جانے والوں میں کمانڈر اخسان اللہ، مولوی عباس بنوچی، مولوی صابر محسود، کمانڈر ابو یاسر، کمانڈر کاروان اور کمانڈر عمر محسود کے نام لیے جا رہے ہیں، جبکہ کمانڈر ثاقب، ابو یاسر اور تبسم کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ان ناموں اور تعداد کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

اب دہشتگردوں کے خلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کی جائیں گی؛ آئی ایس پی آر

اب دہشتگردوں کے خلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کی جائیں گی؛ آئی ایس پی آر

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ریاست دشمن عناصر کو کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ میسر نہیں ہوگی۔ آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

افغانستان میں 7 دہشت گرد ٹھکانوں پر پاکستان کی فضائی کارروائی، افغان وزارتِ دفاع کی ’مناسب وقت‘ پر جواب کی دھمکی

سرحد پار 7 دہشت گرد ٹھکانوں پر پاکستان کی فضائی کارروائی، افغان وزارتِ دفاع کی ’مناسب وقت‘ پر جواب کی دھمکی

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ’شہری آبادی پر بمباری‘ کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی شفاف اور قابلِ تصدیق تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو محض جارحیت قرار دینا خطے میں موجود خطرات کے مکمل تناظر کو نظرانداز کرنا ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں خوارج کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی

پاکستان نے افغانستان میں خوارج کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی

پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

پکتیکا اور خوست سمیت افغانستان کے 7 علاقوں میں پاکستان کے فضائی حملے؛ متعدد دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

پکتیکا اور خوست سمیت افغانستان کے 8 علاقوں میں نامعلوم فضائی حملے؛ متعدد دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا دائرہ صوبہ خوست، پکتیا، پکتیکا اور ننگرہار تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران ارگون (پکتیا) میں بھی تازہ حملے کی اطلاع ملی ہے۔