افغانستان کے شہر قندھار میں حالیہ سفارتی اور سکیورٹی سطح کی سرگرمیوں سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹس نے خطے کی جغرافیائی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ علاقائی اور غیر علاقائی قوتیں افغانستان میں اپنے روابط کو وسعت دے رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اسے دوبارہ علاقائی طاقتوں کے مفادات کے سنگم پر لا کھڑا کرتی ہے۔
افغانستان میں سفارتی روابط کا نیا مرحلہ
طالبان حکومت کے قیام کے بعد متعدد ممالک نے کابل کے ساتھ پس پردہ یا محدود سطح کے روابط استوار کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں بدلتی ہوئی صف بندیوں کے باعث افغانستان ایک بار پھر سفارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی غیر معمولی ملاقات یا رابطے کو فوری طور پر سکیورٹی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، چاہے اس کی مکمل تفصیلات واضح نہ ہوں۔
سرحدی سلامتی اور بلوچستان کا تناظر
پاکستان اور ایران دونوں اپنی سرحدی پٹی میں عسکریت پسند سرگرمیوں کے حوالے سے حساس صورتحال کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے افغانستان میں ہونے والی کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو ان ممالک کی داخلی سلامتی سے جوڑا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر سرحد پار عناصر کو کسی قسم کی سہولت یا غیر اعلانیہ حمایت ملتی ہے تو اس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی مؤقف کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔
علاقائی مفادات اور معاشی پہلو
چین، پاکستان اور ایران تینوں خطے میں بڑے معاشی اور اسٹریٹجک مفادات رکھتے ہیں۔ اقتصادی راہداریوں، سرحدی تجارت اور توانائی منصوبوں کی موجودگی سکیورٹی معاملات کو مزید حساس بنا دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں استحکام یا عدم استحکام براہ راست ان منصوبوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اسی لیے ہر ملک اپنی سکیورٹی ترجیحات کے مطابق سفارتی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
ممکنہ سکیورٹی خدشات
اگر خطے میں کسی قسم کی نئی عسکری یا سیاسی صف بندی سامنے آتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان، ایران اور افغانستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وسیع تر علاقائی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم موجودہ اطلاعات زیادہ تر غیر مصدقہ ذرائع پر مبنی ہیں، اس لیے ان کا تجزیہ احتیاط کے ساتھ کرنا ضروری ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ مفروضوں کے بجائے عملی شواہد کی بنیاد پر پالیسی فیصلے کیے جانے چاہئیں۔
انسدادِ دہشت گردی تعاون کی ضرورت
موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان، ایران اور افغانستان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنائیں۔ مشترکہ گشت، سفارتی رابطوں اور اقتصادی شمولیت کے ذریعے خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پائیدار امن کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی حکمت عملی بھی ناگزیر ہے۔
نتیجہ
قندھار سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس نے خطے میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے، لیکن کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل محتاط اور متوازن تجزیہ ضروری ہے۔ افغانستان بدستور جغرافیائی سیاست کا حساس مرکز ہے، جہاں ہر سفارتی یا سکیورٹی پیش رفت کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔