فلسطین پر قبضہ انسانی تاریخ کے مظلوم ترین اور طویل ترین تنازعات میں سے ایک ہے، جس کی جڑیں 1948ء میں فلسطینیوں کی زبردستی بیدخلی (نکبہ) اور ان کی تاریخی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی قبضہ میں پیوست ہیں۔ پچھلی سات دہائیوں سے زائد عرصے سے فلسطینی عوام اپنے بنیادی حقوق، آزادی اور خود مختاری کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ تاہم، 7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والے معرکے کے بعد صیہونی ریاست نے جس درندگی اور جارحیت کا مظاہرہ کیا، اس نے انسانی تاریخ کے تمام سیاہ ابواب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آج 7 اکتوبر 2026ء کو غزہ کے محصور اور مظلوم شہریوں پر مسلط کی گئی اس بے رحم اور غیر قانونی اسرائیلی جارحیت کو مکمل تین سال بیت چکے ہیں، لیکن تباہی اور ظلم کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
پچھلے تین سالوں میں غزہ کی پٹی کو ایک ایسے بنجر، ویران اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں صرف انسانی آہیں اور ملبے تلے دبے اجسام کی بو باقی ہے۔ ستمبر 2026ء میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چیف وولکر ترک انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والی عمارتوں کی باقیات سے اب بھی بڑے پیمانے پر انسانی اجسام اور اعضاء نکالے جا رہے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور معصوم بچوں کی ہے۔
یہ سنگین صورتِ حال بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور صریح جنگی جرائم کی نشاندہی کرتی ہے۔ فلسطینی سول ڈیفنس کی جاری کردہ تلخ رپورٹ کے مطابق نومبر 2025ء سے ستمبر 2026ء کے درمیانی عرصے میں 630 سے زائد لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کی گئی ہیں، جبکہ اندازاً 8,000 سے زائد افراد اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے کنکریٹ کے نیچے دبے ہوئے ہیں جس پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا تھا کہ یہ ہولناک اعداد و شمار محض ایک بڑے طوفان کی ابتدائی جھلک ہیں۔
اسرائیل کی مسلسل عسکری بربریت کے باعث ہزاروں خاندان غیر محفوظ اور زبوں حال کھنڈر عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی جائزہ مشن نے رپورٹ کیا کہ غزہ میں 4,000 سے زائد عمارتوں کو مکمل یا جزوی طور پر گرانے کی ضرورت ہے، جن میں سے 2,300 سے زائد ایسی عمارتیں ہیں جن کے خطرناک ملبے کے اندر اب بھی تقریباً 44,000 انسان چھت تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
اس بے رحمانہ جنگ کی سب سے بڑی قیمت نقل مکانی کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ستمبر 2026ء کے اعداد و شمار کے مطابق 1.7 ملین (17 لاکھ) سے زائد فلسطینی بے گھر اور در بدر ہیں، جو صاف پانی، شیلٹر اور بنیادی طبی و سینیٹیشن کی سہولیات سے محروم انتہائی گنجان اور غلیظ خیمہ گاہوں میں بے یار و مددگار پڑے ہیں۔
غزہ کے ہیلتھ کیئر سسٹم کو صیہونی فورسز نے مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔ سال 2023ء سے اب تک طبی سہولیات اور عملے پر کم از کم 920 حملے ریکارڈ کیے ہیں اور 1,700 سے زائد ہیلتھ ورکرز کو نشانہ بنا کر شہید کیا جا چکا ہے۔ کینسر، گردوں کی ڈائیلاسز اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہزاروں مریض علاج اور ادویات کی شدید پابندیوں کے باعث سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں۔
اوچا کے مطابق 74 فیصد آبادی پینے کے پانی کے لیے واٹر ٹینکرز پر منحصر ہے، جبکہ ڈی سیلینیشن پلانٹس کی تباہی سے 5 لاکھ سے زائد افراد شدید پانی کے بحران کا شکار ہیں۔ خیمہ گاہوں میں گندگی اور علاج نہ ملنے کے باعث ستمبر 2026ء کے دوران 2,80,000 سے زائد طبی معائنوں میں 19 فیصد سے زائد افراد میں متعدی اور موذی بیماریاں پائی گئیں۔
غزہ میں جاری اس قتلِ عام کے ساتھ ساتھ، مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی مظالم، غیر قانونی بستیاں بسانے، اور بے دخلیاں عروج پر ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق 2026ء کے دوران یہودی آبادکاروں کے پرتشدد حملوں کے 1,430 سے زائد واقعات پیش آئے، جس سے 260 سے زائد برادریاں متاثر ہوئیں اور تقریباً 3,800 فلسطینی (جن میں نصف تعداد معصوم بچوں کی ہے) زبردستی اپنے گھروں سے بے دخل کر دیے گئے۔
بین الاقوامی برادری کی متعدد قرار دادوں اور مذمتوں کو ٹھکراتے ہوئے صیہونی انتظامیہ نے ایریا سی میں 4,570 اور مشرقی یروشلم میں 3,515 نجی رہائشی یونٹس کی منظوری دے کر فلسطینی ریاست کے جیوگرافیکل تسلسل کو بکھیرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔
قانونی اور معلوماتی محاذ پر بھی اسرائیل نے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ جولائی 2024ء میں عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے تاریخی مشورتی فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر اس غاصبانہ قبضے کو ختم کرنا ہو گا۔ دوسری جانب، اس مظلومیت اور درندگی کو دنیا سے چھپانے کے لیے صیہونی فوج نے سچ لکھنے والے صحافیوں کا بلا جھجھک قتلِ عام کیا، جس کی یونیسکو کا آبزرویٹری آف کلڈ جرنلسٹس مسلسل ریکارڈنگ اور عدالتی تحقیقات کر رہا ہے۔
اس مظلومیت اور ہولناک تباہی کی گھڑی میں پاکستان نے اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے تاریخی و اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے فروری 2026ء تک پاکستان نے 2,827 ٹن پر مشتمل امدادی سامان کی 29 خمیے، ادویات اور غذائی اجناس کی کھیپیں غزہ بھجوائیں۔ پاکستان کا یہ واضح اور اصولی موقف بین الاقوامی قانون اور انصاف پر قائم ہے کہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی، القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد، خود مختار اور پائیدار فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔
ستمبر 2026ء میں پاکستان نے 7 دیگر عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے فورمز پر فوری اور بلا تعطل انسان دوست امداد کی فراہمی اور غزہ کی بازآبادکاری کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان اسرائیلی غصب کاری، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری سے فلسطین کے مظلوموں کے لیے عملی اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔