احمد معاذ نمل یونیورسٹی سے میڈیا اینڈ کمیونیکیشن میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں۔ حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور مختلف موضوعات پر تحاریر لکھتے ہیں۔
آج مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل صرف واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسلام آباد، انقرہ اور تہران جیسے دارالحکومتوں میں بھی طے ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بیشتر خلیجی ممالک کا (سوائے یو اے ای) امریکی اڈوں سے فاصلہ رکھنا ایک بڑی سفارتی تبدیلی ہے۔ اگر مسلم دنیا اسرائیل کے اس غیر مرئی محاصرے کو بروقت نہ سمجھ سکی تو خطے کا امن طویل عرصے کے لیے خاکستر ہو سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کی سیاست میں بھارتی مداخلت ایک کھلا راز ہے۔ مخصوص سیاسی قوتوں کی حمایت، سفارتی دباؤ اور میڈیا نیریٹو کے ذریعے بھارت آج بھی بنگلہ دیش کو اپنے اسٹریٹجک دائرے میں رکھنا چاہتا ہے۔ یہی مداخلت بنگلہ دیش کے جمہوری مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلاموفوبیا ایک ایسی عینک ہے جو دنیا کو خوف کے رنگ میں دیکھتی ہے، مگر احمد الاحمد جیسے لوگ اس عینک کو توڑ دیتے ہیں۔ وہ دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو نفرت کے مقابل کھڑا ہو، اور ضرورت پڑے تو دوسروں کے لیے خود کو ڈھال بنا لے۔
آج کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کابل انتظامیہ پرانی راہیں چھوڑ کر نئی پگڈنڈیوں کی تلاش میں ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی راہیں افغانستان کو حقیقی استحکام اور ترقی کی نئی منزل تک پہنچا سکیں گی؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر سیاسی طالب علم اور تجزیہ کار کے ذہن میں ابھر رہا ہے۔
ستائیسویں ترمیم کے دوران دیکھا گیا کہ مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری اور پانچ سالہ انتخابی نظام میں خلل آیا، جس سے عوام کو اپنے مقامی مسائل پر اثرانداز ہونے کا حق محدود ہوا۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے میڈیا ادارے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں گے، جبکہ قطر اس کی نگرانی اور چین و ایران ضامن کی حیثیت سے اس کی حمایت کریں گے۔ ہر تین ماہ بعد دوحہ میں جائزہ اجلاس ہوگا۔