افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا حالیہ بیان، جس میں پاکستان کے مؤقف کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، دراصل ایک پرانا اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے جو بھارت کے تیار کردہ بیانیے سے مماثلت رکھتا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا شکار ہے، خاص طور پر تنظیموں جیسے تحریکِ طالبانِ پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی کی کارروائیاں ملک کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ٹی ٹی پی کمانڈر اکرام اللہ محسود جو سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہے، اس وقت افغانستان میں موجود ہے اور یہ امر طالبان حکومت کے کردار پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے اہم کمانڈر موجود ہیں، جہاں انہیں باقاعدہ مالی معاونت اور اسلحہ سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں قازق صدر قاسم جومارت ٹوکایف کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں اعلان کیا کہ قازقستان ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوگیا ہے
پاک افغان استنبول مذاکرات کا تیسرے دور 13 گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ سرحدی جھڑپوں کے باوجود فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا