سبوخ سید سینیئر صحافی، محقق، کالم نگار اور لیکچرر ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن سمیت متعدد پاکستانی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں اور ان کی تحاریر قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔
ہابرماس کو ایک ایسے “ناقابلِ تسخیر امید پرست” کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے تاریخ کے سیاہ ترین ابواب دیکھنے کے باوجود انسانیت سے بھروسہ نہیں اٹھایا۔ انہیں ایک ایسے معمار کے طور پر دیکھا جائے گا جس نے جدید یورپ کی فکری بنیادیں رکھیں اور “آئینی حب الوطنی” کا تصور دیا۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر حکومت اور ریاستی ادارے اس بڑھتے ہوئے انتشار کو بروقت روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ بار بار یہی منظر کیوں دہرایا جاتا ہے کہ پہلے اشتعال انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، پھر احتجاج کی کالیں آتی ہیں، پھر سڑکیں بند ہوتی ہیں، پھر تشدد ہوتا ہے اور آخر میں ریاست حرکت میں آتی ہے۔
بلوچستان کے مسئلے کو قومی سیاست میں سنجیدگی سے کبھی مرکزی موضوع نہیں بنایا گیا۔ یہ خطہ انتخابی وعدوں، پارلیمانی قراردادوں اور میڈیا کی بریکنگ نیوز تک محدود رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بڑی سیاسی جماعت نے بلوچستان کے لیے کوئی واضح، طویل المدت اور عوامی پالیسی تشکیل دی؟
’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد، اسلام آباد نے خود کو ایک ذمہ دار ’مڈل پاور‘ کے طور پر منوایا ہے. ایک ایسا ملک جو نہ صرف اپنی سلامتی کا دفاع جانتا ہے بلکہ خطے میں “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ واشنگٹن میں بھی اسٹریٹجک توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
عوام اب تھک چکے ہیں۔ انہیں نعروں، بیانیوں اور ٹی وی مباحث کی گردان نہیں چاہیے۔ انہیں محفوظ سڑکیں، مضبوط عمارتیں، فعال فائر بریگیڈ، احساس اور جواب دہی پر مبنی نظام چاہیے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ گھر سے نکلنے والا بچہ شام کو زندہ واپس آئے گا، اور گھر میں رہے گا تو چھت نہیں گرے گی۔
عوام راج پارٹی کے قیام کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف یہ ردعمل کی سیاست ہے، جو موجودہ سیاسی اشرافیہ، موروثی سیاست اور کرپشن کے خلاف عوامی غصے کا اظہار بن کر سامنے آئی ہے۔ اقرار الحسن کا بیانیہ عام آدمی کی محرومی، انصاف کی عدم دستیابی اور طاقتور طبقات کی جوابدہی کے گرد گھومتا ہے۔ دوسری طرف یہ شہرت سے سیاست تک کا سفر ہے۔ اقرار الحسن کی مقبولیت میڈیا کے ذریعے بنی، سیاست کے ذریعے نہیں۔
تعلیم جن زی کا پہلا بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اب بھی رٹہ، نمبر، ڈگری اور ملازمت کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ جن زی اس سوال سے شروع کرتی ہے کہ میں یہ کیوں پڑھوں۔ وہ ہنر، تخلیق، اظہار اور مقصد تلاش کرتی ہے، مگر نظام اسے فائل نمبر اور رول نمبر تک محدود کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان یا تو بے دل ہو جاتے ہیں یا باغی۔
ان تین ملکوں کی یہ چار عورتیں دراصل ایک ہی بے وزن کہانی کے کردار ہیں۔ طاقت کی، قربانی کی، وراثت کی اور اس خطے کی سیاست کی جہاں عورت کو اقتدار تو مل سکتا ہے، مگر سکون اور قبولیت اب بھی ایک خواب ہے۔
سڈنی کا واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اصل میں بندوقوں کی نہیں، بیانیوں کی جنگ ہے۔ اگر عالمی میڈیا مسلسل مذہب اور دہشتگردی کو ایک ساتھ جوڑتا رہے گا، اگر ریاستوں کو بغیر ثبوت کے مجرم بنایا جاتا رہے گا، تو یہ آگ صرف مشرق کو نہیں جلائے گی، ایک دن مغرب بھی اس کی لپیٹ میں آئے گا۔
سقوطِ ڈھاکہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاست کی اصل طاقت بندوق نہیں، بلکہ آئین، پارلیمان، عوامی مینڈیٹ اور مساوی شہری حقوق ہوتے ہیں۔ جب سیاست کو دبایا جاتا ہے تو تاریخ خود کو دہرانے لگتی ہے۔ یہ سانحہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اگر ہم نے ماضی سے سیکھنے کے بجائے اسے فراموش کر دیا تو زخم بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔