اس موقع پر صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستانی قیادت نے منصوبے کی 100 فیصد تائید کی ہے”۔
ان تمام تر الزامات کے جواب میں اقبال آفریدی نے نمائندہ ایچ ٹی این سے گفتگو کی اور الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات سراسر بے بنیاد ہیں اور ان کی کردار کشی کیلئے ان کو پھیلایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گنڈا پور کا یہ بیان قومی سلامتی کے مسئلے کو سیاسی نعرے بازی میں بدلنے کے مترادف ہے، جو طالبان نواز بیانیے کو تقویت دیتا ہے اور اس سے براہِ راست فائدہ پاکستان دشمن قوتوں کو پہنچتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ہم جنگ جیت چکے ہیں اور اب ہم اپنے خطے میں امن چاہتے ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور پر جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
یہ مقدمہ ایف بی آئی، آرمی کاؤنٹر انٹیلیجنس کمانڈ، بیورو آف الکحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوسیو اور ٹلسا پولیس ڈپارٹمنٹ کی مشترکہ تحقیقات کے تحت چل رہا ہے۔
پاکستانی فوج کے مؤقف کے مطابق کسی بھی قسم کی فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں ہمیشہ دہشت گردوں تک محدود رہتی ہیں، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا ان کی حکمتِ عملی کا حصہ کبھی نہیں رہا۔