ولید ملک سینیئر صحافی اور کالم نگار ہیں اور متعدد اداروں کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ وہ علاقائی و عالمی صورتحال پر لکھتے ہیں اور قارئین میں ان کی تحاریر بےحد مقبول ہیں۔
دنیا جوہری تصادم اور یقینی تباہی کے دہانے پر تھی جب پاکستان کو اس کارِ خیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ “سفارتی بنیان المرصوص” کے ذریعے کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں اور سول ملٹری الائنس کے دلیرانہ کردار نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک دیا۔ ابلیسی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں اور پاکستان “پیس میکر” بن کر ابھرا ہے
آبنائے ہرمز جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں اس کی بندش فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس روٹ کو انسانیت کی بقا کا نام دے کر دنیا کے ہر انسان پر اس کی حفاظت کرنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ یہ روٹ انسانیت کی لائف لائن ہے، بنی نوع انسان کی بقا ہے
ایرانی رجیم کو سمجھنا ہو گا کہ یہ جنگ اعصاب کو کنٹرول کرنے اور صبر کرنے کی جنگ ہے، جس میں ایرانی رجیم دن بدن ٹمپرامنٹ کھوتی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک کو نشانے پر رکھ کر فاصلوں کو مزید بڑھانے کے بجائے ہوشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جذباتیت کی رو میں بہہ کر امریکہ و اسرائیل کو موقع مت دیں
امریکیوں و اسرائیلیوں نے جنگ کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس پہلو پر شاید اتنا نہیں سوچا ہوگا کہ چائنا اس حد تک گہرائی میں اتر سکتا ہے۔ بہرحال امریکہ و اسرائیل کو اب نئے سرے سے اپنی عسکری منصوبہ بندی کرنا ہوگی
جنگ کے آغاز سے کسی کو امید نہیں تھی کہ جنگ اتنی شدت اختیار کر لے گی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دونوں جانب سے ہونے والے نقصانات، تباہی و شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں تو آ رہی ہیں۔ سویلین انفراسٹرکچر اور ملٹری اثاثوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جنگ کے شعلے اب تک کے سب سے حساس نوعیت کے اثاثوں تک پہنچ گئے ہیں
سوال یہ ہے کہ ایسی کسی ناگہانی صورت میں کیا ایرانی رجیم امت مسلمہ کی ناراضگی مول لینے کی متحمل ہو سکے گی؟ جبکہ وہ اپنی معاندانہ پالیسیوں کی بدولت پہلے ہی مسلم دنیا میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود اگر ایرانی رجیم ایسی حماقت کرتی ہے ۔ تو ایسی صورت میں مسلمان اور نصاریٰ کا اتحاد ایرانی رجیم کے بستر گول کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو شاید ایرانی رجیم کو منظور نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایرانی رجیم اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امریکی اڈوں کووقتاََ فوقتاََ نشانہ تو بنائے ، لیکن احتیاط کے ساتھ۔ تاکہ ان حملوں سے کوئی مسلمان شہید نہ ہو۔