قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے دوران اس نے افغانستان کے 19 صوبوں میں 401 ہدفی کارروائیاں کیں، جن میں 651 طالبان ہلاک ہوئے، جبکہ صرف کابل میں 126 حملے کیے گئے۔ اس سے قبل اگست 2021 سے ستمبر 2024 تک دستیاب جزوی اعداد و شمار کے مطابق 236 واقعات میں 904 طالبان ہلاک اور 295 زخمی ہوئے، تاہم ان کارروائیوں میں جبهۂ مقاومتِ ملی کے 113 جنگجو بھی مارے گئے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے ، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے زور ڈالے۔
سابق سفارتکاروں نے بھی اس بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اکثر تصدیق شدہ زمینی حقائق کے بغیر یکطرفہ رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں، جو ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہر ملک کے عدالتی فیصلوں کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی رنگ دیا جائے تو عالمی نظام انصاف کمزور ہو جائے گا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پیکس سیلیکا کا مقصد “اہم معدنیات، توانائی، ایڈوانس مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، اے آئی انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس سمیت ایک محفوظ اور ترقی یافتہ سلیکون سپلائی چین کی تشکیل” ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی حساس اور اعلیٰ سطحی دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی پاکستان پر اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ واشنگٹن یہ تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام، انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں برطانیہ کی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی کارکردگی، سرکاری اداروں کی تنظیم نو، پبلک فنانس مینجمنٹ اور نجکاری جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔
یہ رپورٹ جس میں ’ڈیورنڈ لائن‘ کو فرضی سرحد کے طور پر پیش کیا گیا ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل میں 1,000 سے زائد افغان علما نے ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنا “حرام” قرار دیا گیا ہے۔
فلم پاکستان کو ایک منظم دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے، جب کہ جنوبی ایشیا کے سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے اپنے اندرونی عوامل، بغاوتی تحریکیں، اور بلوچستان میں خفیہ سرگرمیوں کا کردار خطے کی مجموعی پیچیدگیوں کا زیادہ بڑا حصہ ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق، اس ادارے میں 600 سے زائد بچے زیرِ تعلیم تھے، اور یہ پورے علاقے میں واحد فعال پرائمری اسکول تھا۔ حکام نے متاثرہ حصوں کو سیل کرکے متبادل تعلیمی بندوبست کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
جرگہ میں پیش کیے گئے مطالبات میں آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر عوام کی واپسی اور بحالی، ہر خاندان کو 5 لاکھ روپے ایڈوانس اور ایک لاکھ روپے ماہانہ مالی امداد، تیراہ میدان میں تعلیمی اداروں کی تعمیر، صحت، پانی اور بجلی کی سہولیات کی فراہمی، اور نقصان شدہ زمین و جائیداد کا معاوضہ شامل ہے۔