بھارتی میڈیا نے ویمن کارڈ کا سہارا لے کر افیرا بی بی اور شاہین شاہد کو بغیر کسی ثبوت کے دہشت گرد قرار دے کر پاکستانی خواتین کی عزت و وقار کو نشانہ بنایا ہے
پاکستان اور افغانستان کو درپیش شدت پسندی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، مگر افغان طالبان کی جانب سے جھوٹی معلومات اور پروپیگنڈا نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرناک ہے بلکہ حقیقی دہشت گرد گروہوں کو مزید جگہ فراہم کرتا ہے۔
ناقدین کے مطابق اگر طالبان پاکستان کی جانب سے اعترافِ ریاستی حیثیت کے بدلے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو غیر شرعی قرار دینے پر آمادہ ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب ان کے لیے محض ایک سیاسی ہتھیار ہے۔
وہ طالبان جو دو دہائیوں تک بھارتی ریاست کو “ہندو سامراج”، “اسلام دشمن قوت” اور افغانستان میں “غیر شرعی اثر” کا ذریعہ قرار دیتے رہے، اب انہی کے دروازے پر تجارت، سرمایہ کاری، انسانی امداد اور سفارتی پہنچ کیلئے درخواستیں لے کر کھڑے ہیں۔
یہ رپورٹ سکھ علیحدگی پسند تحریک، بھارتی ریاستی پالیسیوں اور کینیڈا و امریکا میں بڑھتی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں ایک سنگین عالمی مسئلے کو بے نقاب کرتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی تازہ وارننگ اسلام آباد کے اس دیرینہ موقف کی توثیق کرتی ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے مسلسل خطرے کا باعث ہیں۔
کابل کا بھارت کی طرف جھکاؤ اُن سیکیورٹی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتا جو پاکستان، ایران، چین، روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔