ایسے میں عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے پاس ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اپنی عوامی حمایت کو مثبت سمت میں لے جاتی اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقیقی نمائندے بن کر ابھرتی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے فیصلے اور بیانات اس حقیقت کے برعکس ہیں۔
وزیر اعظم نے ایکشن کمیٹی کے اراکین اور قیادت سے اپیل کی ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کرے۔ کمیٹی اپنی سفارشات اور مجوزہ حل بلا تاخیر وزیراعظم آفس کو بھجوائے گی تاکہ مسائل کے فوری تدارک کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
وائرل ہونے والی اسٹوری میں لکھا گیا کہ مجھے اس رشتے میں زبردستی اور بلیک میلنگ کے ذریعے لایا گیا، میری والدہ اور بہن کے ساتھ ظلم ہوا اس کے بعد یہ رشتہ میرے لیے ختم ہو گیا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی سیاسی، سماجی، فلاحی اور مذہبی شخصیات نے بھی اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کی اور گرفتار افراد کی غیر مشروط رہائی کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔