افغان طالبان نے پاکستان پر تحریکِ طالبان پاکستان کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اتحاد اور نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دیا۔ جعلی جہاد کی نفی امن اور علاقائی استحکام کا ضامن ہے۔
افغان طالبان نے فتنۃ الخوارج کو تیبیہ کی کہ امیر کے حکم کے خلاف پاکستان میں لڑنا جائز نہیں، بیرون ملک جہاد کرنے والے حقیقی مجاہد نہیں، جہاد کی اجازت دینا کسی فرد یا گروہ نہیں، صرف ریاستی امیر کا اختیار ہے، ریاستی قیادت کے حکم کے باوجود پاکستان جانا شرعا ۔نافرمانی ہے
تحریک طالبان پاکستان ایک جعلی عالم کی تعریف کرتے ہوئے اسلام کو غلط طور پر تشدد کو جواز دینے کے لیے استعمال کر رہی جو کہ حقیقی مذہبی علماء کی توہین کے مترادف ہے