ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار نے عالمی کرکٹ میں ایک بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس مؤقف سے فکر مندی اور تشویش میں مبتلا ہے اور معاملات کو سلجھانے کے لیے فوری “بیک چینل مذاکرات” کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کی تشویش
بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی نے پاکستان کو منانے اور عالمی ٹورنامنٹ کو بحران سے بچانے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ “ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے پر آئی سی سی پاکستان سے بیک چینل بات چیت کرے گا۔” اس سلسلے میں آئی سی سی نے اپنے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو خصوصی ذمہ داری سونپی ہے۔
عمران خواجہ کا کردار
عمران خواجہ جو سنگاپور کرکٹ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہیں، کو آئی سی سی کی جانب سے “پاکستان کرکٹ بورڈ کو کھیلنے پر آمادہ کرنے” ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہیں پی سی بی کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے فوری اور خفیہ مذاکرات کرنے کا کہا گیا ہے۔ عمران خواجہ کا انتخاب اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وہ ایک غیر متنازع شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کے حلقوں میں معتدل تاثر رکھتے ہیں۔
پی سی بی کا مؤقف اور تاریخی تناظر
یاد رہے کہ پی سی بی نے گزشتہ ہفتے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ “موجودہ حالات میں بھارت کے خلاف کھیلنے پر غور نہیں کر سکتا۔” اس موقف کی بنیاد بھارت میں “پاکستان مخالف ماحول” اور “بھارتی حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو پریشان کرنے کی کارروائیوں” کو قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچوں کا معاملہ گزشتہ کئی سالوں سے سیاسی اور سفارتی تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔
آئی سی سی کے لیے چیلنج اور مستقبل
آئی سی سی کے لیے یہ صورت حال انتہائی پیچیدہ ہے، کیونکہ پاک بھارت کرکٹ میچ نہ صرف دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اسپورٹس ایونٹس میں سے ایک ہے بلکہ آئی سی سی کے ٹورنامنٹس کے لیے سب سے بڑا ریوینیو جنریٹر بھی ہے۔ کسی بھی طرح کے بائیکاٹ سے عالمی کرکٹ پر کروڑوں ڈالر کا مالی نقصان ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کا عمران خواجہ کو بطور ثالث منتخب کرنا ایک “سفارتی چال” ہے۔ ایک مبصر کے مطابق، “عمران خواجہ نہ تو بھارتی ہیں اور نہ پاکستانی، اس لیے وہ غیر جانبدار ثالث کی حیثیت سے کام کر سکتے ہیں۔ یہ آئی سی سی کی طرف سے بحران کو سیاسی میدان سے نکالنے کی کوشش ہے۔” دوسری طرف، کرکٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ “اگر پاکستان بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف ٹورنامنٹ بلکہ پوری عالمی کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔”