ایمبسڈر صادق کی تہران میں چائنہ اور ازبکستان کے نمائندوں سے ملاقات؛ دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان مربوط اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل میں مزید ملاقاتیں اور تعاون کے منصوبے زیر غور ہیں تاکہ خطے میں اقتصادی ترقی اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تہران میں افغانستان سے متعلق علاقائی اجلاس: پاکستان کی شرکت، طالبان کی عدم حاضری پر علاقائی تشویش

پاکستانی مؤقف کے مطابق اسلام آباد آئندہ بھی دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون، مکالمے پر مبنی حل اور مشترکہ سکیورٹی فریم ورک کی حمایت جاری رکھے گا۔ تہران اجلاس میں پاکستان کی فعال شرکت اور طالبان کی عدم موجودگی کے درمیان واضح فرق نے ایک بار پھر پاکستان کے تعمیری کردار اور کابل کی ہچکچاہٹ کو نمایاں کر دیا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
حقانی کا عوامی اعتماد کا دعویٰ، عملی شواہد ناپید: طالبان کی حکمرانی زیرِ تنقید

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ حکمرانی خوف کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کا اعتماد حاصل کر کے کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات صوبہ خوست کے دورے کے دوران مرکزی مسجد میں نمازیوں سے خطاب اور مقامی انتظامیہ سے ملاقات کے موقع پر کہی۔ حقانی کے مطابق اداروں […]
امریکی انٹیلی جنس چیف نے افغانستان کو عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کا گڑھ قرار دیتے ہوئے وارننگ جاری کر دی

امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گیبارڈ نے خبردار کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں افغان شہریوں کی مناسب جانچ پڑتال کے بغیر امریکا میں داخلے نے سنگین سکیورٹی خطرات کو جنم دیا۔ ان کے مطابق امریکی اداروں نے ایسے کم از کم 18 ہزار افراد کی نشاندہی کی ہے جو معروف […]
خطے میں امن کیلئے ایران کی کوشش رائیگاں؛ افغانستان کا تہران میں اہم علاقائی سکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار

افغان وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے تصدیق کی ہے کہ افغان حکومت کو ایران کی جانب سے دعوت موصول ہوئی تھی، تاہم کابل نے اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سرحد پار سکیورٹی خطرات، بالخصوص دہشت گردی کے پھیلاؤ، پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
این آر ایف کی قندوز میں ایک اور کاروائی؛ طالبان کی سکیورٹی فورسز کے تین اراکین ہلاک

قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے دوران اس نے افغانستان کے 19 صوبوں میں 401 ہدفی کارروائیاں کیں، جن میں 651 طالبان ہلاک ہوئے، جبکہ صرف کابل میں 126 حملے کیے گئے۔ اس سے قبل اگست 2021 سے ستمبر 2024 تک دستیاب جزوی اعداد و شمار کے مطابق 236 واقعات میں 904 طالبان ہلاک اور 295 زخمی ہوئے، تاہم ان کارروائیوں میں جبهۂ مقاومتِ ملی کے 113 جنگجو بھی مارے گئے۔
علما کے فتوے کے باوجود افغان میڈیا کا پاک افغان بارڈر کو ”سرحد” ماننے سے انکار؛ ماہرین کی شدید تنقید

یہ رپورٹ جس میں ’ڈیورنڈ لائن‘ کو فرضی سرحد کے طور پر پیش کیا گیا ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل میں 1,000 سے زائد افغان علما نے ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنا “حرام” قرار دیا گیا ہے۔
وادی تیراہ میں قبائلی عمائدین نے 27 مطالبات کے ساتھ فوجی آپریشن کی منظوری دی

جرگہ میں پیش کیے گئے مطالبات میں آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر عوام کی واپسی اور بحالی، ہر خاندان کو 5 لاکھ روپے ایڈوانس اور ایک لاکھ روپے ماہانہ مالی امداد، تیراہ میدان میں تعلیمی اداروں کی تعمیر، صحت، پانی اور بجلی کی سہولیات کی فراہمی، اور نقصان شدہ زمین و جائیداد کا معاوضہ شامل ہے۔
افغانستان کی بگڑتی صورتحال پر خطے کا ردعمل؛ ایران نے بڑی سفارتی سرگرمی کا آغاز کر دیا

اجلاس میں پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ افغانستان کے مستقبل پر اب خطے کے ممالک براہ راست ذمہ داری سنبھال رہے ہیں اور غیر مغربی دنیا ایک نئی سفارتی حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے۔
افغان علما کا فتویٰ خوش آئند مگر پاکستان افغان حکومت سے دہشت گردی کے خلاف تحریری ضمانت کے مطالبے پر قائم ہے؛ دفتر خارجہ

افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر مستقل تشویش ہے اور ماضی کے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث پاکستان نے تحریری ضمانتیں مانگی ہیں۔ انہوں نے حالیہ افغان علما کے “سرحد پار عسکری کارروائیوں کے خلاف فتوے” کو مثبت مگر ناکافی قرار دیا۔