طالبان کا مؤقف “ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے” عالمی رپورٹس کے برعکس نکلا

طالبان کا مؤقف: ٹی ٹی پی پاکستان کا مسئلہ ہے، مگر اقوامِ متحدہ اور انٹیلی جنس رپورٹس افغان سرزمین پر موجود شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کی نشاندہی کرتی ہیں
استنبول مذاکرات تعطل کا شکار، پاکستان کا ٹی ٹی پی کے خلاف مضبوط اقدامات کا مطالبہ

پاکستان کا افغان طالبان سے قابلِ تصدیق سکیورٹی ضمانت کا مطالبہ، مذاکرات ٹی ٹی پی کارروائی پر رک گئے
دہشت گردی کے خلاف کاروائی اولین ترجیح؛ دفتر خارجہ نے پاک افغان مذاکرات پر اپنا مؤقف جاری کر دیا

پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔
ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے گمراہ کن قرار، پاکستان نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر دیا

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا حالیہ بیان، جس میں پاکستان کے مؤقف کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، دراصل ایک پرانا اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے جو بھارت کے تیار کردہ بیانیے سے مماثلت رکھتا ہے۔
مذاکرات ناکام؛ افغانستان کے رویے سے ثالثی ممالک بھی مایوس ہو چکے؛ خواجہ آصف

جب تک افغان جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، پاکستان سیزفائر برقرار رکھے گا۔
نائن الیون کے بعد کی جنگ: بے نظیر بھٹو کے قاتل کی افغان سرزمین پر موجودگی؟

ٹی ٹی پی کمانڈر اکرام اللہ محسود جو سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہے، اس وقت افغانستان میں موجود ہے اور یہ امر طالبان حکومت کے کردار پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے
افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور افغان حکومت کا کردار

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے اہم کمانڈر موجود ہیں، جہاں انہیں باقاعدہ مالی معاونت اور اسلحہ سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں
افغان حکومت کے ادھورے وعدے، ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کی اب بھی سرپرستی جاری

طالبان حکومت نے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں
مساجد کے تقدس اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کا مذاق اڑانے پر سہیل آفریدی پر شدید تنقید

سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں مگر مساجد، شہداء اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان بازی اور پروپیگنڈا کرنا ریاست سے غداری کے مترادف ہے
پاک افغان مذاکرات کا تیسرا دور آج جاری رہے گا؛ سرحدی کشیدگی کے باوجود مذاکرات جاری

پاک افغان استنبول مذاکرات کا تیسرے دور 13 گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ سرحدی جھڑپوں کے باوجود فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا