کابل میں علما کا پانچ نکاتی فتویٰ؛ مثبت پیش رفت مگر عملی اقدامات بھی ضروری ہیں

گزشتہ چند برسوں میں طالبان حکام متعدد بار پاکستان اور عالمی برادری کو اسی قسم کی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں، مگر ٹی ٹی پی اور دیگر متعلقہ گروہوں کی سرگرمیاں، حملے اور موجودگی نے ان وعدوں کو غیرموثر بنا دیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اس تازہ فتویٰ کی اہمیت کو پرکھا جائے گا۔
افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے: عاصم افتخار

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
افغان طالبان کی معاونت کے انکشافات؛ واشنگٹن اور قانون سازوں کا سخت ردِعمل

امریکی کانگریس مین ٹِم برشیٹ نے افغان طالبان کو مالی معاونت روکنے کے لیے پیش کیے گئے بل کے سینیٹ میں رکنے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں سینیٹ اسٹافر ٹام ویسٹ کے مبینہ تعلقات اور کچھ ری پبلکن سینیٹرز کے غیر قانونی مالی فوائد شامل ہیں
دوسرے ملک میں امیر کی اجازت کے بغیر جہاد حرام، نافرمانی کو ”بغاوت” تصور کیا جائے گا؛ کابل میں ایک ہزار سے زائد علما کا مشترکہ فتویٰ

فتویٰ کے مطابق علمائے کرام نے کہا کہ چونکہ شرعی امیر نے کسی بھی افغان شہری کو بیرونی ملک میں مسلح سرگرمی یا جہاد کی اجازت نہیں دی، اس لیے ایسی کوئی کارروائی ناجائز، حرام اور بغاوت کے زمرے میں آئے گی۔
افغانستان بحران کے دہانے پر، خواتین کی تعلیم اور انسانی حقوق پر عالمی تشویش میں اضافہ

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی آئندہ برسوں میں امداد کی محتاج ہوگی
افغانستان میں بگڑتی انسانی حقوق کی صورتحال پر 52 ممالک کا اظہارِ تشویش

بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے فوری خاتمے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ افغان عوام کو محفوظ اور باعزت زندگی فراہم کی جا سکے۔
امیر کی اجازت کے بغیر دوسرے ملک میں جا کر جہاد کرنا حرام قرار؛ افغانستان میں ایک ہزار سے زائد علما کا فتویٰ

اعلامیے کے مطابق افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنا شرعاً حرام ہے، اور جو شخص اس عہد کی خلاف ورزی کرے گا، وہ ’’عہد شکن‘‘ تصور ہوگا، جبکہ امارت اسلامی کو ایسی خلاف ورزیوں پر کارروائی کا حق حاصل ہے۔
افغانستان میں صحافت زوال کا شکار، تمام گرفتار صحافیوں کو رہا کیا جائے؛ عالمی صحافتی تنظیم کا مطالبہ

سی پی جے کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پریس فریڈم شدید تنزلی کا شکار ہے۔ تنظیم نے دو صحافیوں، مہدی انصاری اور حمید فرہادی کی فوری رہائی کا خاص طور پر مطالبہ کیا ہے جنہیں کسی شفاف قانونی کارروائی اور جرمانے کے بغیر کئی ماہ سے قید رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کے علاوہ کم از کم نو مزید صحافی بھی طالبان کی خفیہ ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔
این آر ایف کی تازہ کاروائیوں نے افغانستان میں طالبان کے مکمل کنٹرول کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا

پاکستان کی تشویش بجا ہے: جب تک افغانستان میں ایسی صورتِ حال برقرار ہے، جنگ زدہ عناصر کے خلاف حقیقی اور شفاف بین الاقوامی مہم ضروری ہے تاکہ نہ صرف افغان عوام کو امن میسر آئے بلکہ پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی بھی محفوظ رہے۔
افغانستان میں پختون برتری کا خاتمہ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا؟

جنرل طارق خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ڈیورنڈ لائن کو یہ مانتے نہیں ہیں۔ افغانستان میں پختون کم ہیں اور پاکستان میں زیادہ ہیں۔ تو پھر یہ سرحد اٹھا کر آمو (سنٹرل ایشیا) پر ہی لے جاتے ہیں۔ ریٹائرڈ فوجی شاید سیکیورٹی فورسز کی ایک 3 اور ایک 2 کے تناسب سے دی جانے والی جان کی قربانیوں کو دیکھ کر بولنا شروع ہوئے ہیں۔