پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی افغان امدادی راہداری کی اصولی منظوری دے دی، سینیئر صحافی طاہر خان

اسلام آباد میں عسکری و سیاسی قیادت کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اقوامِ متحدہ کی امدادی درخواست اور راہداری کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ سینیئر صحافی طاہر خان کے مطابق پاکستان نے درخواست منظور کر لی ہے جبکہ تکنیکی امور پر مشاورت ابھی باقی ہے۔

اسلام آباد میں عسکری و سیاسی قیادت کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اقوامِ متحدہ کی امدادی درخواست اور راہداری کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ سینیئر صحافی طاہر خان کے مطابق پاکستان نے درخواست منظور کر لی ہے جبکہ تکنیکی امور پر مشاورت ابھی باقی ہے۔

افغانستان میں پنپتا سنگین انسانی بحران اور طالبان کی غفلت

افغانستان میں پنپتا سنگین انسانی بحران اور طالبان کی غفلت

طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔

افغانستان میں وزارتِ امر بالمعروف کے ہیڈکوارٹر پر حملہ؛ فریڈم فرنٹ نے ذمہ داری قبول کر لی

افغانستان کے صوبہ فاریاب کے دارالحکومت میمنہ میں وزارتِ امر بالمعروف کے مرکزی دفتر پر حملے کی ذمہ داری مزاحمتی گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے قبول کی ہے۔ گروہ کا دعویٰ ہے کہ حملے میں طالبان کے دو اہلکار ہلاک اور صوبائی سربراہ زخمی ہوا ہے

افغانستان کے صوبہ فاریاب کے دارالحکومت میمنہ میں وزارتِ امر بالمعروف کے مرکزی دفتر پر حملے کی ذمہ داری مزاحمتی گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے قبول کی ہے۔ گروہ کا دعویٰ ہے کہ حملے میں طالبان کے دو اہلکار ہلاک اور صوبائی سربراہ زخمی ہوا ہے

افغان تارکین کی وطن واپسی پر سخت دستاویزاتی چیکنگ؛ ماہرین نے طالبان حکومت کے بیانیے پر سوالات اٹھا دیے

افغان تارکین کی وطن واپسی پر سخت دستاویزاتی چیکنگ؛ ماہرین نے طالبان حکومت کے بیانیے پر سوالات اٹھا دیے

یہ صورتحال اس بیانیے کے بالکل برعکس ہے جو افغان سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور بعض سرگرم گروہ دیگر ممالک بالخصوص پاکستان کے بارے میں پھیلاتے ہیں، جہاں وہ افغان مہاجرین کی بغیر تصدیق اندھا دھند قبولیت کا مطالبہ کرتے ہیں اور میزبان ریاستوں کو ’’اسلامی برادری‘‘ یا ’’اتحادی فرض‘‘ کا طعنہ دیتے ہیں۔