پاک افغان مذاکرات کا تیسرا دور آج جاری رہے گا؛ سرحدی کشیدگی کے باوجود مذاکرات جاری

پاک افغان استنبول مذاکرات کا تیسرے دور 13 گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ سرحدی جھڑپوں کے باوجود فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا
افغانستان – عالمی منشیات کا گڑھ اور خطے کے لیے ایک نیا چیلنج

آج افغانستان دنیا کے تین بڑے منشیات پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اور اگر عالمی برادری نے سخت موقف نہ اپنایا تو یہ ملک جلد ہی مصنوعی منشیات کے لیے بھی وہی کردار ادا کرے گا جو ماضی میں افیون کے لیے کرتا آیا ہے۔
افغانستان افیون اور مصنوعی آئس کی پیداوار کا اہم مرکز قرار، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم کی رپورٹ

تازہ رپورٹ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اگرچہ افغانستان نے پوست کی کاشت میں کمی کی ہے، لیکن وہ اب بھی عالمی سطح پر افیون پیداوار کا دوسرا بڑا مرکز ہے۔
بھارت۔ اسرائیل دفاعی معاہدہ؛ طالبان حکومت کا بھارت کی جانب بڑھتا جھکاؤ

بھارتی وزیر دفاع کی تل ابیب میں اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے معاہدے پر دستخط
افغان انٹیلیجنس کا ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو مقامی آبادی میں ضم کرنے کا نیا منصوبہ

افغان انٹیلیجنس نے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو بظاہر انتظامی ردوبدل کے نام پر مقامی آبادیوں میں آباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ جو سراسر استنبول مذاکرات کے معاہدے کے متضاد ہے
پاکستان کی افغان پالیسی اور لاحق خدشات

اگر دنیا نے آج افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں روکنے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو کل دہشت گردی پاکستان کے بعد کی یہ آگ انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔
سکندر اعظم سے امریکی حملے تک: افغانستان ’سلطنتوں کا قبرستان‘ یا ’فتح کی شاہراہ‘؟

افغانستان کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی معیشت کو بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرے
پاک افغان کشیدگی کے بعد وزیرِ خارجہ امیر متقی کا اسحاق ڈار سے مسلسل رابطہ

اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاک افغان کشیدگی کے بعد پہلی مرتبہ سفارتی ہم آہنگی کی کوشش کی
افغان سرزمین سے حملہ جنگ بندی معاہدے کا خاتمہ تصور کیا جائے گا، پاک فوج

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے، تاہم اگر افغان سرزمین سے پاکستان پر کوئی حملہ ہوا تو اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا
مہمان نوازی سے مایوسی تک – طالبان کا انتہاپسند رویّہ

ریاستِ پاکستان روزِ اول سے ایسے مؤقف پر قائم ہے جسے عالمی برادری سمیت حالیہ استنبول مذاکرات میں ثالثی ممالک نے سراہا۔