آزاد کشمیر کی سیاست – عدم استحکام کا مستقل دائرہ

جب تک جماعتی وفاداریاں، ذاتی مفادات اور مرکزی سیاست کا اثر پارلیمانی اصولوں سے بالاتر رہتا ہے، آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کا امکان دھندلا ہی رہے گا۔
ملک کے 20 پسماندہ اضلاع میں سے 17 بلوچستان کے اضلاع، رپورٹ میں انکشاف

پاکستان پاپولیشن کونسل کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 20 انتہائی پسماندہ اضلاع میں سے 17 بلوچستان میں ہیں، جہاں سڑکوں، صحت، تعلیم اور مواصلات جیسی بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے
طالبان پر پاکستان کی مذہبی سفارت کاری کا اثر کیوں نہ ہوا؟

اس کے ساتھ ساتھ، کندهار کے مرکز سے براہِ راست رابطہ بھی ضروری ہے، کیونکہ طالبان انتظامیہ کے بنیادی فیصلے اب وہیں کیے جاتے ہیں۔
افغانستان اور پاکستان کے خدشات

طالبان حکومت کو آج تک دنیا کے کسی بھی خطے اور اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں باقاعدہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
پاکستان کی بلیو اکانومی: سمندری ترقی کے نئے دور کا آغاز

نئی اصلاحات اور تین جدید بندرگاہوں سے پاکستان 100۔ 150 ارب ڈالر سالانہ کماتے ہوئے خطے میں بحری تجارتی مرکز کے طور پر ابھرے گا
وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے پہلے خطاب میں اصلاحاتی پیکج پیش کردیا

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے قانون ساز اسمبلی میں پہلا خطاب کرتے ہوئے تاریخی اصلاحاتی پیکج پیش کیا، جس کا مقصد سرکاری اخراجات میں کمی، اداروں میں شفافیت اور میرٹ سسٹم کی مکمل بحالی ہے
ایران اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال

ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکراتی عمل کو مضبوط بنانے پر زور دیا
افغان حکومت کی پالیسیوں کے باعث تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر

پاک افغان سرحدی راستے محدود ہونے کے باعث دوطرفہ تجارت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 54 فیصد کمی دیکھی گئی
جموں و کشمیر کو وسطی ایشیا کا دروازہ بنایا جائے، ایل او سی راستے کھولے جائیں: محبوبہ مفتی

پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کو وسطی ایشیا کا دروازہ بنایا جائے اور کنٹرول لائن کے آر پار تجارت و سفر کے روایتی راستے فوری طور پر بحال کیے جائیں
اگر ظہران ممدانی پاکستانی ہوتا۔۔۔

مختصر یہ کہ ظہران ممدانی نے نیو پارک کی مہنگی زندگی کو کچھ سستا کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اسی لئے صرف مسلمان ، مسیحی ، ہندو اور سکھ نہیں بلکہ بہت سے یہودی بھی ظہران ممدانی کی انتخابی مہم میں آگے آگے نظر آئے ۔