ایران میں جاری احتجاج اور ایران امریکہ تعلقات؛ اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کی تحقیقات: طالبان اراکین نے متعدد صوبوں میں غیر قانونی قتل کیے

دستاویزات کے مطابق طالبان اراکین نے کندز، ہلمند، غزنی اور پکتیا میں شہریوں اور سابق حکومتی اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی قتل اور اغواء میں حصہ لیا
فوزیہ کوفی کا طالبان کو واضح پیغام: افغان لڑکیوں کی تعلیم ایک مقدس جدوجہد ہے

سابق پارلیمانی رکن نے لڑکیوں کے اسکول بند رکھنے کی پالیسی کو قومی شناخت پر حملہ قرار دیا، ’’جنگجو سردار‘‘ کے بیانیے پر بھی تنقید
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تمام ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔
افغانستان میں صحافت خطرے میں، طالبان نے صحافی نذیرہ رشیدی کی گرفتاری کی تصدیق کردی

قندوز میں مبینہ فوجداری واقعے کے نام پر صحافیہ اور چار دیگر خواتین کو حراست میں لیا گیا، میڈیا کی آزادی پر نئے سوالات
خیبر پختونخوا میں بدامنی کی لہر: بنوں میں فائرنگ سے امن کمیٹی کے 4 ارکان جاں بحق

واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پاکستان کی متعدد ممالک سے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی فروخت پر ’مذاکرات‘ کی تصدیق: ’ان معاہدوں میں چین کی مرضی شامل ہوگی‘

پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘
طالبان کے بعد کیا ہوگا؟

افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر انکے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟