"> افغانستان انٹرنیشنل کی تحقیقات: طالبان اراکین نے متعدد صوبوں میں غیر قانونی قتل کیے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان انٹرنیشنل کی تحقیقات: طالبان اراکین نے متعدد صوبوں میں غیر قانونی قتل کیے

دستاویزات کے مطابق طالبان اراکین نے کندز، ہلمند، غزنی اور پکتیا میں شہریوں اور سابق حکومتی اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی قتل اور اغواء میں حصہ لیا
افغانستان انٹرنیشنل نے طالبان کی اندرونی رپورٹس شائع کیں ہیں، جن میں غیر قانونی قتل اور تشدد کے ثبوت موجود ہیں

یہ رپورٹس صوبائی خط و کتابت، کمانڈروں کی رپورٹس اور متاثرین کی شکایات پر مشتمل ہیں۔ طالبان نے اب تک اس پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا

January 13, 2026

افغانستان انٹرنیشنل نے طالبان حکام سے حاصل ہونے والے خفیہ سرکاری دستاویزات اور اندرونی رپورٹس کا مجموعہ شائع کیا ہے، جو اس بات پر ظاہر کرتا ہے کہ اس گروہ کے اراکین متعدد افغان صوبوں میں غیر قانونی قتل کے واقعات میں براہ راست ملوث ہیں۔

یہ دستاویزات مختلف صوبائی دفاتر، سکیورٹی اہلکاروں اور اندرونی تفتیشی رپورٹس سے حاصل کی گئی ہیں، جو ثابت کرتی ہیں کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں شہریوں کے قتل، اغواء، تشدد اور جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطی کے واقعات باقاعدگی سے پیش آئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق کندز، ہلمند، غزنی اور پکتیا جیسے صوبوں میں طالبان کے مقامی کمانڈروں نے سابق حکومتی اہلکاروں، عام شہریوں اور مخالفین کے خلاف کارروائیاں کیں۔ کئی واقعات میں یہ قتل طالبان کے مختلف گروہوں کے مابین اختیارات یا ذاتی دشمنیوں کا نتیجہ تھے، جنہیں سرکاری طور پر سکیورٹی آپریشنز کا نام دیا گیا۔

دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ متاثرین کو اکثر بغیر کسی سرکاری مقدمہ یا قانونی کارروائی کے ہلاک کیا گیا، جو طالبان کے دعوؤں کے برعکس ہے کہ وہ مکمل اسلامی عدالتی نظام نافذ کر چکے ہیں۔ بعض رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل میں طالبان کی مرکزی قیادت کو ان واقعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم زیادہ تر معاملات میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دستاویزات میں صوبائی گورنروں کے درمیان خط و کتابت، مقامی کمانڈروں کی مرکزی قیادت کو بھیجی گئی رپورٹس، داخلی تفتیشی دستاویزات اور متاثرین کے خاندانوں کی درخواستیں شامل ہیں، جو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہونے والے مظالم کا تفصیلی ریکارڈ پیش کرتی ہیں۔

اب تک طالبان حکومت نے ان دستاویزات پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا ہے۔ ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے ہوئے طالبان حکام نے کہا ہے کہ تمام کارروائیاں شرعی قانون کے مطابق کی جاتی ہیں اور ملک میں مکمل امن قائم ہے۔

دیکھیں: افغان نائب گورنر کے بیٹے سمیت دو بچے اغواء، ریسکیو آپریشن کے بعد رہا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *