آپریشن غضب للحق جاری، پاکستان نے افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے متعدد افغان چوکیاں تباہ کر دیں

آپریشن غضب للحق جاری، پاکستان نے افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے متعدد افغان چوکیاں تباہ کر دیں

سکیورٹی حکام کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی فورسز کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں 12 افغان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ہم نے افغانستان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور اب بھی سرحد پر کشیدگی جاری ہے؛ وزارت اطلاعات کا بیان

ہم نے افغانستان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور اب بھی سرحد پر کشیدگی جاری ہے؛ وزارت اطلاعات کا بیان

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور سرحدی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

افغان صوبہ کنڑ سے مہمند کی سرحدی چوکیوں پر حملہ، شدید جھڑپیں جاری

افغان صوبہ کنڑ سے مہمند کی سرحدی چوکیوں پر حملہ، شدید جھڑپیں جاری

ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ، نئی رپورٹ میں سنگین انکشافات سامنے آگئے

بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ، نئی رپورٹ میں سنگین انکشافات سامنے آگئے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز واقعات کی اکثریت ان ریاستوں میں پیش آئی جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسرِاقتدار ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور اشتعال انگیز تقاریر کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دہشت گردی پر خاموشی: ماہرین کی ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت پر کڑی تنقید

دہشت گردی پر خاموشی: ماہرین کی ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت پر کڑی تنقید

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بیانیے کی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک موقف سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

قیادت کا خلا یا اختیار کی کشمکش؟ پی ٹی آئی کا اندرونی بحران شدت اختیار کر گیا

قیادت کا خلا یا اختیار کی کشمکش؟ پی ٹی آئی کا اندرونی بحران شدت اختیار کر گیا

ان مختلف زاویوں اور متضاد بیانات کے باعث کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں اور ایک واضح سمت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پارٹی اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکی تو یہ مرحلہ وار بکھراؤ اس کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔