"> پی ٹی آئی میں قیادت کا بحران: عمران خان کی منظرِ عام سے دوری کی اصل وجہ 'اندرونی اختلافات' قرار - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پی ٹی آئی میں قیادت کا بحران: عمران خان کی منظرِ عام سے دوری کی اصل وجہ ‘اندرونی اختلافات’ قرار

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی میں جاری شدید کھینچا تانی اور تنظیمی مسائل کے باعث عمران خان خود فعال قیادت کرنے سے گریز کر رہے ہیں
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی میں جاری شدید کھینچا تانی اور تنظیمی مسائل کے باعث عمران خان خود فعال قیادت کرنے سے گریز کر رہے ہیں

پی ٹی آئی میں اندرونی ٹوٹ پھوٹ نے بانی کو دفاعی پوزیشن پر مجبور کر دیا۔ قیادت کی جنگ اور انتشار کے باعث عمران خان منظرِ عام پر آنے سے ہچکچا رہے ہیں

February 26, 2026

پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق،جماعت میں جاری گروہ بندی نے بانی عمران خان کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے خود منظرِ عام پر نہ آنے اور مہم کی براہِ راست قیادت سے گریز کی بنیادی وجہ ان کی اپنی جماعت کے ‘اندرونی مسائل’ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف اس وقت کئی دھڑوں میں منقسم دکھائی دیتی ہے، جہاں مختلف گروہ اپنی اپنی بقا اور پارٹی پر قبضے کی جنگ میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں عمران خان کے لیے کسی ایک دھڑے کی حمایت یا اجتماعی قیادت فراہم کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ جب تک پارٹی کے اندر نظم و ضبط بحال نہیں ہوتا، بانی کا خود سامنے آنا ان کے سیاسی بیانیے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ پارٹی کی موجودہ قیادت کارکنان کو متحرک کرنے میں ناکام رہی ہے جس کا بوجھ بانی پر پڑ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی خاموشی یا گوشہ نشینی دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ اپنی جماعت کے اندرونی انتشار کو قابو کرنے میں فی الحال بے بس ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے نہ صرف تنظیمی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ کارکنان میں بھی مایوسی پھیلا دی ہے۔ اسی کھینچا تانی کے باعث عمران خان کسی بڑے سیاسی اقدام کا اعلان کرنے سے کتراتے ہوئے ‘انتظار کرو اور دیکھو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

دیکھیے: مودی کا دورہ اسرائیل اور پاکستان کی سکیورٹی پر اس کے اثرات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *