پاکستان کی افغانستان میں فضائی کاروائیاں جاری؛ بگرام ایئربیس سمیت 4 اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا

بگرام ائیربیس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جہاں تین میزائل داغے گئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اڈے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پانچ فوجی گاڑیاں تباہ ہونے کی خبر ہے۔ ایک طیارہ ہینگر (جہاں طیارے کھڑے اور محفوظ کیے جاتے ہیں) بھی تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت کی سزا؟ کابل میں استاد محمد محقق کا ٹی وی بند، جائیدادوں پر قبضے کی اطلاعات

ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔
انقلاب سے انجام تک: آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی، اقتدار اور متنازع وراثت

1981 میں ایک بم حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اسی سال صدر منتخب ہوئے۔ 1980 سے جاری ایران عراق جنگ نے ان کے دورِ صدارت کو شکل دی۔ اگرچہ اس وقت زیادہ اختیارات وزیرِ اعظم کے پاس تھے، مگر خامنہ ای نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور دفاعی و سلامتی معاملات میں اپنی گرفت مضبوط کی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی 4 جون 1989ء سے 28 فروری 2026ء تک کی حکمرانی

علی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے، جو ایران کا ایک مقدس شہر ہے اور امام رضا کے مزار کی وجہ سے معروف ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ جواد خامنہ ای، ایک آذربائیجانی-ایرانی شیعہ عالمِ دین تھے جو سخت مذہبی نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ان کا خاندان نہایت سادہ اور قناعت پسند زندگی گزارتا تھا۔
پاکستان کی ایران پر امریکی حملوں کی مذمت؛ ایران نے حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا

دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس موقع پر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر پاکستان، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔
کراچی میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے، امریکی قونصلیٹ کے قریب جھڑپیں؛ حکام کی عوام سے پرامن رہنے کی اپیل

ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای جاں بحق، ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا؛ ایران کا واقعے کو جرم عظیم قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ “یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا” اور ایران اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ذمہ داران کو پچھتاوے پر مجبور کرے گا۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے 37 برس حکمت و بصیرت سے قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ملک ایک مشکل دور سے گزرے گا۔
ایران پر حملہ؛ کون کیا چاہتا، کہاں کھڑا ہے؟

اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ پھیلی تو اس کے شعلے ہماری سرحدوں تک بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نہ صرف غیر جانبداری اختیار کرنی ہوگی بلکہ واضح، جراتمندانہ سفارتی موقف بھی اپنانا ہوگا۔ خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں، بصیرت اور پیش بندی کا وقت ہے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں کمزور کی غیر جانبداری بھی اکثر محفوظ نہیں رہتی۔
اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں

مزید برآں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
مختصر وقفے کے بعد پاک افغان سرحد پر دوبارہ جھڑپیں شروع، بھاری گولہ باری جاری

دونوں جانب سے جانی نقصان کی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکڑوں طالبان رجیم کے عسکری اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان نے بھی پاکستانی فوج کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں اور چوکیوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔