"> حکومتی وفد اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات جاری، اہم مطالبات سامنے آ گئے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

حکومتی وفد اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات جاری، اہم مطالبات سامنے آ گئے

عوامی ایکشن کمیٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے فوری استعفے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت موجودہ قیادت عوام کے اعتماد پر پوری نہیں اتر رہی۔
حکومتی وفد اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات جاری، اہم مطالبات سامنے آ گئے

کشمیری عوام اور بیرون ملک مقیم کشمیری کمیونٹی ان مذاکرات کے نتیجے کو بڑی گہری نظر سے دیکھ رہی ہے کیونکہ اس کے اثرات براہ راست ریاست کی آئندہ سمت پر مرتب ہوں گے۔

October 2, 2025

مظفرآباد سمیت آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوامی احتجاج کی فضا بدستور قائم ہے اور اس تناظر میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مظفرآباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں عوامی ایکشن کمیٹی کے وفد کی قیادت شوکت نواز میر، امجد علی خان ایڈووکیٹ اور مرکزی رکن انجم زمان اعوان کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی وفد میں قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، رانا ثناء اللہ سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔ حکومتی کمیٹی مظفرآباد ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچی تاکہ براہ راست عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کر سکے اور موجودہ بحران کا حل تلاش کیا جا سکے۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے دوران اپنے چند اہم مطالبات حکومتی وفد کے سامنے رکھے ہیں۔ ان مطالبات میں سب سے بنیادی مطالبہ آزاد جموں و کشمیر سے فورسز کی فوری واپسی اور ان کی اسلام آباد منتقلی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ فورسز کی موجودگی عوامی بے چینی کو بڑھا رہی ہے، جس کے خاتمے سے امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسرا اہم مطالبہ ان ایف آئی آرز کا اندراج ہے جو وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر داخلہ اور دیگر سرکاری اہلکاروں و عملے کے خلاف درج کی جائیں جنہیں عوامی ایکشن کمیٹی شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے فوری استعفے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت موجودہ قیادت عوام کے اعتماد پر پوری نہیں اتر رہی۔ ساتھ ہی مظفرآباد کے سیکٹر کمانڈر کی معطلی اور ان کے خلاف تحقیقات کے آغاز کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایک اور نکتہ جو کمیٹی نے اٹھایا وہ یہ تھا کہ ایف آئی اے کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ اور اسٹاپ لسٹ سے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں، اوورسیز کشمیریوں اور صحافیوں کے نام نکالے جائیں تاکہ انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت مل سکے۔

یہ تمام مطالبات سامنے آنے کے بعد مذاکرات کا ماحول نہایت سنجیدہ اور نازک قرار دیا جا رہا ہے۔ کشمیری عوام اور بیرون ملک مقیم کشمیری کمیونٹی ان مذاکرات کے نتیجے کو بڑی گہری نظر سے دیکھ رہی ہے کیونکہ اس کے اثرات براہ راست ریاست کی آئندہ سمت پر مرتب ہوں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ حکومتی وفد مسئلے کا فوری اور دیرپا حل تلاش کرے اور اس حوالے سے سفارشات بلا تاخیر وزیر اعظم آفس کو پیش کرے۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ کس نتیجے پر پہنچتا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے سخت موقف اپنایا گیا ہے جبکہ حکومت نے مصالحت اور بات چیت کے ذریعے بحران حل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ فریقین لچک کا مظاہرہ کریں گے تاکہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو سکون اور سیاسی استحکام فراہم کیا جا سکے۔

دیکھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف کی آزاد کشمیر کے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *