کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔
تقریب کے دوران مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ سفارتکاری، مؤثر ڈیٹرنس، بحران مینجمنٹ اور مذاکراتی عمل ناگزیر ہیں۔ مقررین کے مطابق یہ کتاب نہ صرف “معرکۂ حق” کے مختلف پہلوؤں کو دستاویزی شکل دیتی ہے بلکہ نئی نسل، پالیسی سازوں، محققین اور تزویراتی امور کے طلبہ کے لیے بھی ایک اہم تحقیقی حوالہ ثابت ہوگی۔
پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔
افغانستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے سفارتی مفادات، نظریاتی بیانیے اور معاشی ضروریات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے، کیونکہ موجودہ حالات میں مستحکم علاقائی تعلقات اس کی بقا کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔
دنیا کی ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر غیر قانونی طور پر موجود غیر ملکیوں کو واپس بھیجے۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک روزانہ کی بنیاد پر بغیر دستاویزات کے تارکین وطن کو ڈپورٹ کرتے ہیں۔ پاکستان بھی اپنی داخلی سلامتی اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے یہی قانونی عمل کر رہا ہے۔
کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘
دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔
میڈیا کا کردار محض خبر دینا نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، جب ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہو، ضروری ہے کہ میڈیا توازن برقرار رکھے۔ سنسنی خیزی یا ریٹنگز کی دوڑ میں ایسی خبروں کو اس انداز میں پیش کرنا جو بین الاقوامی سطح پر ملک کے تاثر کو متاثر کرے، دانشمندی نہیں۔
دوسری جانب مذاکراتی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر فریقین کے درمیان نمایاں پیشرفت بھی ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 15 مطالبات میں سے ایران نے 11 کو قبول کیا، جبکہ ایران کے 10 مطالبات میں سے امریکہ نے 8 سے اتفاق کیا۔ یوں “اسلام آباد اکارڈ” کو جزوی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ باقی ماندہ نکات پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔