روسی صدر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

February 7, 2026

ماہرین کے مطابق کسی بھی حکومتی اتھارٹی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مکمل علاقائی کنٹرول اور انتظامی اختیار رکھنے کے باوجود دہشت گردی کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ جب تک افغانستان سے سرحد پار تشدد کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، طالبان کے استحکام اور امن کے دعوے عملی طور پر کھوکھلے ثابت ہوتے رہیں گے۔

February 7, 2026

اسلام آباد خودکش حملہ آور کا افغانستان سے متعدد سفری تعلق ثابت، سکیورٹی حلقوں نے طالبان کنٹرول کو “دہشت گردی کا مرکز” قرار دیا

February 6, 2026

پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ اعلامیے میں افغان طالبان سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری کاروائی اور افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال کی روک تھام کا مطالبہ کیا

February 6, 2026

امریکہ نے ایران میں امریکی شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے فوری انخلاء کی ہدایت کی ہے۔ اغواء، جاسوسی کے جھوٹے الزامات اور سفارتی مدد کی عدم دستیابی جیسے شدید خطرات کو اس فیصلے کی بنیاد بتایا گیا ہے

February 6, 2026

90 کی دہائی میں یوم یکجہتی کشمیر مظلوم کشمیریوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا دن تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ محض رسم بن گیا۔ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات نے کشمیری حق خودارادیت اور بنیادی حقوق مزید محدود کر دیے، اور آج بھی کشمیری عالمی ضمیر سے انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں

February 6, 2026

افغانستان امن چاہتا ہے مگر اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا: ملا یعقوب

ملا یعقوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہم نہ تو کسی سرزمین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے گروہوں کی حمایت کرتے ہیں جو دوسرے ممالک میں دہشت گردی پھیلائیں
ملا یعقوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہم نہ تو کسی سرزمین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے گروہوں کی حمایت کرتے ہیں جو دوسرے ممالک میں دہشت گردی پھیلائیں

انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ افغان ریاست امن چاہتی ہے لیکن اپنے دفاع اور سالمیت کے معاملے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی

October 20, 2025

دوحہ میں افغان وزیر دفاع ملا یعقوب نے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملکی خارجہ پالیسی اور علاقائی امن کے حوالے سے متعلق اہم گفتگو کی۔

ملا یعقوب کا کہنا تھا ہم افغانستان کی سلامتی اور خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اور ڈیورنڈ لائن سے متعلق بھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور نہ ہی معاہدے کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ترکی میں ہونے والے مذاکرات میں موجودہ معاہدے کےنفاذ پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔

قیامِ امن پر زور

ملا یعقوب نے پرہرس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے افغانستان ایک اسلامی ریاست ہے جو کسی بھی ملک سے جنگ نہیں چاہتی۔ ہم نہ تو کسی سرزمین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے گروہوں کی حمایت کرتے ہیں جو دوسرے ممالک میں دہشت گردی پھیلائیں اور روزِ اوّل سے ہماری یہی پالیسی ہے۔

سرحدی خلاف ورزی پر مؤقف

انہوں نے حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتےہوئے کہا پاکستان کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کے جواب میں ہم نے مناسب اقدامات کیے۔ ہم افغان ریاست اور اپنی خودمختاری پر ذرہ برابر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

مذاکرات کی کامیابی

ملا یعقوب نے قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 12 سے 13 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک باہمی احترام اور جنگ بندی کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

ایک نئی کمیٹی کی تشکیل

ملا یعقوب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنگ بندی جاری رہے گی۔ قطر و ترکی دونوں ممالک کی نگرانی میں ایک مشترکہ کمیٹی بنے گی جو معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔

دفاعی عزم کا اظہار

انہوں نے پریس کانفرنس میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر کوئی جارحیت اور سرحدی خلاف ورزی کرے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہم نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ اپنے دفاع کے معاملے میں ہم مکمل طور پر پُرعزم اور آزد ہیں۔

باہمی تعلقات کے اصول

انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک آزاد ملک ہے جو تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ و برادرانہ تعلقات چاہتا ہے۔ افغان حکام نہ تو بھارت کے خلاف پاکستان کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے خلاف بھارت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

ڈیورنڈ لائن

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیورنڈ بارڈر سے متعلق کچھ بھی ہمارے معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ یہ عوام کا معاملہ ہے اور عوام ہی اس کا فیصلہ کرے گی۔

مستقبل کے اقدامات

ملا یعقوب نے کہا آئندہ ترکی میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدے کے نفاذ کے لیے میکانزم پر تفصیلی گفتگو ہوگی اور سیکیورٹی کے لیے ایک مضبوط و منظّم نظام تشکیل دیا جائے گا۔

افغان مہاجرین کے مسائل

انہوں نے پڑوسی مالک پاکستان سے اپیل کی کہ افغان مہاجرین کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے اور ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے جس سے اسلامی و بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ افغان ریاست امن چاہتی ہے لیکن اپنے دفاع اور سالمیت کے معاملے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

دیکھیں: دوحہ مذاکرات کامیاب؛ پاکستان اور افغانستان کا فوری جنگ بندی اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے پر اتفاق

متعلقہ مضامین

روسی صدر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

February 7, 2026

ماہرین کے مطابق کسی بھی حکومتی اتھارٹی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مکمل علاقائی کنٹرول اور انتظامی اختیار رکھنے کے باوجود دہشت گردی کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ جب تک افغانستان سے سرحد پار تشدد کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، طالبان کے استحکام اور امن کے دعوے عملی طور پر کھوکھلے ثابت ہوتے رہیں گے۔

February 7, 2026

اسلام آباد خودکش حملہ آور کا افغانستان سے متعدد سفری تعلق ثابت، سکیورٹی حلقوں نے طالبان کنٹرول کو “دہشت گردی کا مرکز” قرار دیا

February 6, 2026

پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ اعلامیے میں افغان طالبان سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری کاروائی اور افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال کی روک تھام کا مطالبہ کیا

February 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *