فرانس 24 کی متنازعہ رپورٹ: پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کے معاملے پر جانبدارانہ بیانیہ مسترد کر دیا

مبصرین کے مطابق، فرانس 24 کی یہ رپورٹ صحافتی توازن سے عاری ہے اور اس کا مقصد ایک قانونی انتظامی فیصلے کو بین الاقوامی تنازع کی صورت میں پیش کرنا ہے، جو نہ صرف صحافتی اصولوں کے منافی ہے بلکہ پاکستان کے خلاف منفی بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
فرانس 24 کی متنازعہ رپورٹ: پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کے معاملے پر جانبدارانہ بیانیہ مسترد کر دیا

رپورٹ میں یہ حقیقت نہیں بتائی گئی کہ پاکستان نے گزشتہ 40 سالوں سے 40 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ، ایک ایسی مثال جو دنیا میں کسی مغربی ملک نے نہیں دہرائی۔

October 25, 2025

فرانس کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ‘‘فرانس 24 نیوز' کی حالیہ رپورٹ، جسے شاہ زیب والہ، سونیا گیزالی، اور اونڈین ڈی گال نے احسان اللہ احمد زئی کے ساتھ مل کر تیار کیا، پاکستان کی جانب سے غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی واپسی پالیسی کو جذباتی رنگ میں پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کا عنوان ‘پاکستان: افغان مہاجرین کیلئے ایک آزمائش’ رکھا گیا، جس میں ایک افغان خاندان کی کہانی کو بنیاد بنا کر پاکستان کے فیصلے کو غیر انسانی اور ظالمانہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

https://twitter.com/France24_en/status/1981934220529348760

رپورٹ میں دکھایا گیا کہ محمد نامی افغان شہری، جو 1982 میں ہجرت کے بعد پاکستان میں پیدا ہوا، اب اپنے آٹھ بچوں کے ساتھ وطن واپس جانے پر مجبور ہے۔ فرانس 24 کے نمائندوں نے پولیس چھاپوں، بے دخلی کے خدشات، اور بچوں کے جذباتی مناظر کو اس انداز میں پیش کیا کہ ناظرین کے اندر ہمدردی پیدا ہو، مگر ریاستی پالیسی کے قانونی، سکیورٹی اور معاشی پہلوؤں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق رپورٹ کا بیانیہ واضح طور پرلر و بر کی سوچ کی جھلک دیتا ہے، جو افغان اور پاکستانی شناخت کے فرق کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ حقیقت نہیں بتائی گئی کہ پاکستان نے گزشتہ 40 سالوں سے 40 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ، ایک ایسی مثال جو دنیا میں کسی مغربی ملک نے نہیں دہرائی۔

مزید برآں، فرانس 24 نے یہ بھی نہیں بتایا کہ پاکستان 1951 کے ریفیوجی کنونشن کا فریق نہیں، تاہم انسانی بنیادوں پر افغان شہریوں کو دہائیوں تک پناہ دی گئی۔ جبکہ مغربی ممالک غیر قانونی تارکینِ وطن کو 40 گھنٹے سے زیادہ برداشت نہیں کرتے۔

رپورٹ کے اندازِ بیان اور مناظر میں واضح جذباتی شدت دیکھی گئی، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے اقدامات کو منفی طور پر پیش کرنا تھا۔ مبصرین کے مطابق، فرانس 24 کی یہ رپورٹ صحافتی توازن سے عاری ہے اور اس کا مقصد ایک قانونی انتظامی فیصلے کو بین الاقوامی تنازع کی صورت میں پیش کرنا ہے، جو نہ صرف صحافتی اصولوں کے منافی ہے بلکہ پاکستان کے خلاف منفی بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔

دیکھیں: دوحہ مذاکرات کامیاب؛ پاکستان اور افغانستان کا فوری جنگ بندی اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے پر اتفاق

متعلقہ مضامین

سعودی عرب اور شام نے دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے، دونوں ممالک کا بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی سلامتی پر زور۔

November 5, 2026

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

November 4, 2026

امریکی عدالت نے 150 سے زائد افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے ملک بدری 7 نومبر تک عارضی طور پر روک دی۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *