پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کم کرنے کے لیے آج ترکی کے شہر استنبول میں ایک اہم دورِ مذاکرات جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خاتمے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بات چیت ہو رہی ہے۔
اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے تھے، جس کے بعد ترکی نے ایک نئے مکالماتی عمل کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔
پاکستانی وفد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اسی حوالے سے ایچ ٹی این اُردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر گوہر نے کہا کہ
“ایک بات بہت واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔ صلاحیت رکھتا ہے اور چاہے وہ افغانستان ہے یا پھر انڈیا۔ پاکستان اپنا حقِ دفاع محفوظ رکھتا ہے۔ اگر کسی بھی ملک کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو پاکستان کی افواج اور قوم کے پاس یہ حق ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں۔ کوئی بھی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنی چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان ہمارے بھائی ہیں، ہمارے ہمسائے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ امن کے ساتھ رہیں۔ ہم نے 40 سال ان کی بہت مدد کی ہے، اور آئندہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایک بہترین، پُرامن اور مضبوط افغانستان ہو ۔کیونکہ وہ پاکستان کے فائدے میں ہے۔ لیکن ان سے بھی میں یہ درخواست کروں گا کہ وہ سہولت کار نہ بنیں، اور اگر کسی بھی طرح ان کی سہولت کاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حائل آتی ہے تو یہ نہیں ہونا چاہیے۔”
بریسٹر گوہر کے مطابق، پاکستان ایک پرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر گامزن ہے، مگر قومی سلامتی کے معاملے میں کسی بھی دباؤ یا مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، استنبول میں جاری موجودہ اجلاس میں ترک حکام ثالث کے طور پر موجود ہیں، جبکہ فریقین کی جانب سے سیزفائر کے استحکام اور سرحدی تعاون کے لیے ممکنہ طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکراتی عمل خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں ممالک باہمی اعتماد کی بنیاد پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن ملک کے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔