"> طالبان حکومت کے خلاف ''افغانستان انڈیپینڈس فرنٹ'' کے نام سے نئی مزاحمتی تحریک منظر عام پر آگئی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان حکومت کے خلاف ”افغانستان انڈیپینڈس فرنٹ” کے نام سے نئی مزاحمتی تحریک منظر عام پر آگئی

ویڈیو پیغام میں گروپ کی قیادت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ ترجمان کے چہرے کو بھی واضح نہیں دکھایا گیا۔ مبصرین کے مطابق مقرر کے لہجے اور اندازِ گفتگو کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان کے شمالی علاقوں سے ہو سکتا ہے۔
طالبان حکومت کے خلاف ''افغانستان انڈیپینڈس فرنٹ'' کے نام سے نئی مزاحمتی تحریک منظر عام پر آگئی

یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ کے نام سے دو گروہ مسلسل طالبان کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں۔

February 23, 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں “افغان انڈیپنڈنس فرنٹ” کے نام سے ایک نئے گروپ کے منظرِ عام پر آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا اعلان کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیان میں گروپ نے خود کو “قومی خودمختاری اور آزادی” کی جدوجہد سے وابستہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں منظم ہو چکا ہے۔

ویڈیو پیغام میں گروپ کی قیادت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ ترجمان کے چہرے کو بھی واضح نہیں دکھایا گیا۔ مبصرین کے مطابق مقرر کے لہجے اور اندازِ گفتگو کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان کے شمالی علاقوں سے ہو سکتا ہے، تاہم اس دعوے کی کوئی باضابطہ یا آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ گروپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے ارکان کابل سمیت متعدد صوبوں میں موجود ہیں اور وہ “مناسب وقت” پر کارروائیاں کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ کے نام سے دو گروہ مسلسل طالبان کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں۔

طالبان حکام کی جانب سے اس گروپ کے دعوؤں پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں طالبان حکومت اس نوعیت کے اعلانات کو “پروپیگنڈا” یا “غیر سنجیدہ دعوے” قرار دیتی رہی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی نئے مسلح گروپ کے ابھرنے کا دعویٰ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، تاہم زمینی حقائق اور تنظیمی ڈھانچے کی تصدیق کے بغیر اس کی حقیقی قوت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں افغانستان کو داخلی اور خارجی دباؤ کا سامنا ہے، اور ایسے میں کسی نئے گروپ کا اعلان سیاسی و سیکیورٹی ماحول پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر ضروری ہے کہ دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کی جائے اور صورتحال کا محتاط جائزہ لیا جائے، کیونکہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بیانات ہمیشہ زمینی حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔

دیکھیے: قندوز میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا ایک اور حملہ، تین طالبان اہلکار ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *