"> ایرانی سفیر کی عالمی برادری پر تنقید: افغان مہاجرین کا بوجھ ایران اور پاکستان پر کیوں؟ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایرانی سفیر کی عالمی برادری پر تنقید: افغان مہاجرین کا بوجھ ایران اور پاکستان پر کیوں؟

ایران کے اقوامِ متحدہ میں مندوب امیر سعید ایراوانی نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغان مہاجرین کے مسئلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث انکا بوجھ ایران اور پاکستان جیسے ممالک پر بڑھ گیا ہے
ایران کے اقوامِ متحدہ میں مندوب امیر سعید ایراوانی نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغان مہاجرین کے مسئلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث انکا بوجھ ایران اور پاکستان جیسے ممالک پر بڑھ گیا ہے

اقوامِ متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے امیر سعید نے کہا کہ ایران اور پاکستان صرف غیر قانونی افغان شہریوں کو اپنے وطن واپس بھیج رہے ہیں

December 15, 2025

ایران کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی نے افغان مہاجرین کے مسئلے پر گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہے، جس کا بوجھ اب خطے کے چند ممالک پر ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ میں خطاب کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ 2026 کے لیے افغان مہاجرین کی امداد میں بین الاقوامی مالی معاونت میں 60 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران تقریباً 60 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

خطاب کرتے ہوئے ایراوانی نے کہا کہ عالمی برادری نے مہاجرین کے مسئلے کر کبھی بھی مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش نہیں اور کیے گئے وعدے بھی پورے نہیں کیے جس کے نتیجے میں خطے کے ممالک شدید معاشی اور سیکیورٹی مسائل کا شکار ہیں۔

انہوں نے زلمے خلیل زاد کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران صرف غیر قانونی افغان شہریوں کو واپس بھیج رہا ہے جو ہر ملک کا قانونی حق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا رجحان اب عالمی سطح پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں یورپ سمیت کئی ممالک اپنی امیگریشن پالیسیاں سخت کر رہے ہیں۔

ایراوانی نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ایران کی طرح صرف غیر قانونی افغان شہریوں کو اپنے وطن واپس بھیج رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ دہائیوں تک مہاجرین کی میزبانی کرنے کے بعد معاشی اور سلامتی دباؤ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق افغان مہاجرین کی طویل عرصہ تک میزبانی نے ایران اور پاکستان جیسے ممالک پر معاشی بوجھ کا باعث ہے۔ جبکہ عالمی برادری کی جانب سے عملی تعاون نہ ہونے کی وجہ سے یہ بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جذباتی بحثوں کے بجائے حقیقت پسندانہ اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

دیکھیں: تہران میں افغانستان سے متعلق علاقائی اجلاس: پاکستان کی شرکت، طالبان کی عدم حاضری پر علاقائی تشویش

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *