"> قائداعظمؒ - ایک فکر، ایک عہد - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

قائداعظمؒ – ایک فکر، ایک عہد

یہ دن محض خراجِ عقیدت پیش کرنے کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی دن ہے۔ قائداعظمؒ کا پاکستان اب بھی ہماری راہ دیکھ رہا ہے۔ ضرورت صرف اس عزم کی ہے جو انہوں نے کیا تھا، اور اس وفاداری کی جو ہم ان کے نظریے کے ساتھ نبھا سکیں۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ تحسین ہوگا۔
قائداعظمؒ - ایک فکر، ایک عہد

قائداعظمؒ کی جدوجہد کا ہر مرحلہ قربانی، استقلال اور غیر متزلزل عزم کی مثال ہے۔

December 25, 2025

پچیس دسمبر کا دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عہد کی یاد دہانی ہے۔ یہ دن اس عظیم رہنما کی ولادت کا دن ہے جس نے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کو نہ صرف ایک واضح منزل دی بلکہ ایک آزاد وطن کا خواب حقیقت میں بدل کر دکھایا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ ایک فرد نہیں، ایک نظریہ تھے؛ ایک ایسی سوچ جو اصول، دیانت اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی تھی۔


قائداعظمؒ کی جدوجہد کا ہر مرحلہ قربانی، استقلال اور غیر متزلزل عزم کی مثال ہے۔ بیماری، تنہائی اور شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے موقف سے انحراف نہیں کیا۔ ان کا ایمان تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور انہیں اپنی تہذیب، اقدار اور سیاسی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ ریاست درکار ہے۔ یہی یقین بالآخر پاکستان کے قیام پر منتج ہوا۔


قائداعظمؒ نے ہمیں محض ایک ملک نہیں دیا بلکہ ایک واضح راستہ بھی دکھایا۔ ان کے تین سنہری اصول : ایمان، اتحاد اور تنظیم آج بھی ہماری اجتماعی زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ افسوس کہ ہم نے وقت کے ساتھ ان اصولوں کو نعروں تک محدود کر دیا، حالانکہ یہی وہ بنیادیں تھیں جن پر ایک مضبوط، منصف اور خوشحال پاکستان تعمیر ہو سکتا تھا۔


آج جب ملک سیاسی انتشار، معاشی مشکلات اور اخلاقی زوال جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، قائداعظمؒ کی فکر پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ قانون کی بالادستی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، ریاستی نظم و ضبط اور عوامی خدمت ، یہ سب وہ اصول ہیں جن پر قائداعظمؒ نے زور دیا تھا۔ اگر ہم واقعی ان کے مشن سے وفادار ہیں تو ہمیں ان کی تعلیمات کو تقریبات نہیں بلکہ عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔


یومِ ولادتِ قائداعظمؒ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم اس پاکستان کی حفاظت کر رہے ہیں جس کا خواب انہوں نے دیکھا تھا؟ کیا ہم دیانت، انصاف اور برداشت کو اپنی قومی زندگی کا حصہ بنا پائے ہیں؟ یہ دن محض خراجِ عقیدت پیش کرنے کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی دن ہے۔
قائداعظمؒ کا پاکستان اب بھی ہماری راہ دیکھ رہا ہے۔ ضرورت صرف اس عزم کی ہے جو انہوں نے کیا تھا، اور اس وفاداری کی جو ہم ان کے نظریے کے ساتھ نبھا سکیں۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ تحسین ہوگا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *