Author: ایڈیٹوریل ڈیسک

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔

May 6, 2026

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

May 4, 2026

فروری 2026 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے، تقریباً چھ ہزار جنگجو مختلف افغان صوبوں میں سرگرم ہیں، اور انہیں پناہ، سہولت اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں چھ سو سے زائد حملوں کا سراغ افغان علاقوں تک جاتا ہے۔ طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، مگر اس کا معاشی بوجھ افغان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

May 2, 2026

پاکستان میں عسکری حملوں میں 42 فیصد کمی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ‘آپریشن غضب للحق’ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سیاسی و سماجی اصلاحات اور مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔

May 2, 2026

پہلگام سانحے کے ایک برس بعد حسن اسلم شاد کا تجزیہ بھارتی بیانیے کے تضادات اور بین الاقوامی قانون سے انحراف کو بے نقاب کرتا ہے۔ کیا ایٹمی خطے میں مفروضے قانون کی جگہ لے سکتے ہیں؟

April 29, 2026

خلیجی ڈپازٹس اب صرف مالی سہارا نہیں رہے، بلکہ “سیاسی ریفرنڈم” میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یعنی اب کسی ملک کی خارجہ پالیسی پر خلیجی ریاستوں کی رائے کا اظہار براہِ راست مالی فیصلوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

April 28, 2026

آج کی گورننس کا حال بھی ماضی سے مختلف نہیں۔ 2021 سے اب تک معیشت 30 فیصد سکڑ چکی ہے، لاکھوں ملازمتیں ختم ہو گئیں اور 75 فیصد آبادی دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ 25 لاکھ بچیاں تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔

April 27, 2026

یونیورسٹی آف لاہور کی تحقیقاتی رپورٹ نے افغان انٹیلی جنس کے زیرِ سایہ فعال ’المرصاد‘ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال سے پاکستان کی نظریاتی اساس اور سفارتی کششوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

April 27, 2026

ڈیورنڈ لائن پر افغان قیادت کے روایتی بیانیے میں بڑی دراڑ؛ انتہا پسندوں کی مخالفت کے باوجود دوستم، محمد محقق اور ہزارہ کمیونٹی نے سرحد کو عالمی حقیقت تسلیم کر لیا۔ کیا یہ خطے میں نئی حقیقت پسندی کا آغاز ہے؟

April 23, 2026

ڈیورنڈ لائن پر افغان سیاسی بیانیے میں بڑی تبدیلی؛ اہم افغان شخصیات اور محققین نے ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتے ہوئے ‘پشتونستان’ کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ماہرین کے مطابق خطے کا استحکام جذباتی نعروں کے بجائے جغرافیائی حقیقتوں اور سرحدی احترام میں پوشیدہ ہے۔

April 22, 2026