بین الاقوامی رپورٹس نے طالبان کے عادلانہ حکومت کے دعوؤں کا پول کھول دیا، جہاں امر بالمعروف قوانین اور جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا کی آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں پی ٹی آئی دورِ حکومت کے دوران 72 ارب روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیوں، ترقیاتی فنڈز میں گڑبڑ اور غیر ملکی قرضوں کے نامکمل ریکارڈ کا انکشاف ہوا ہے۔
کبھی معاشی اصولوں کا تمسخر اڑانے والے طالبان کی ضدی پالیسیوں نے افغان تاجروں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سرحدیں بند ہونے سے انار سڑ رہے ہیں اور معیشت کا جنازہ نکل چکا ہے۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو خطے میں آبی سیکیورٹی اور انسانی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔