"> پاکستانی پاسپورٹ ہونے کے باوجود "میں افغان ہوں" کہہ کر پناہ گزین نے برطانیہ میں رہنے کی اجازت حاصل کرلی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستانی پاسپورٹ ہونے کے باوجود “میں افغان ہوں” کہہ کر پناہ گزین نے برطانیہ میں رہنے کی اجازت حاصل کرلی

برطانیہ میں پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے پناہ گزین نے کہا کہ وہ افغان ہے اور طالبان کے خطرے کے سبب اسے برطانیہ میں رہنے کی اجازت دے دی گئی
برطانیہ میں پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے پناہ گزین نے کہا کہ وہ افغان ہے اور طالبان کے خطرے کے سبب اسے برطانیہ میں رہنے کی اجازت دے دی گئی

ابتدائی طور پر اس کا کیس امیگریشن ٹریبونل میں مسترد ہوا تھا لیکن اعلیٰ عدالت نے قانونی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپیل منظور کی

January 7, 2026

ایک پناہ گزین جو پاکستانی پاسپورٹ پر برطانیہ پہنچا تھا، نے عدالتی جنگ جیت کر ملک میں رہنے کا حق حاصل کر لیا ہے۔ پناہ گزین کا دعویٰ تھا کہ وہ درحقیقت افغان شہری ہے اور اگر اسے واپس بھیجا گیا تو اس کی خاندانی زندگی متاثر ہوگی اور اسے طالبان کے خطرے کا سامنا ہوگا۔

یہ فرد یورپی انسانی حقوق کے معاہدے (ای سی ایچ آر) کے آرٹیکل 8 کے تحت اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کے حق کی بنیاد پر اپیل کر رہا تھا۔ ابتدائی طور پر امیگریشن ٹریبونل نے اس کا کیس مسترد کر دیا تھا لیکن اعلیٰ عدالت نے پہلے درجے کے فیصلے میں قانونی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔

ججوں نے ریمارکس دیے کہ افغان قانون کے تحت دوہری شہریت کی اجازت نہیں ہے اور طالبان ان لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو پاکستان فرار ہوئے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ بات غیرمعقول ہے کہ بچوں کی بہترین فلاح و بہبود کسی بھی ملک (برطانیہ، پاکستان، کویت یا افغانستان) میں پوری ہو سکتی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے غیر ملکی مجرموں اور ناکام پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے میں آسانی کے لیے آرٹیکل 8 کے اطلاق میں اصلاحات کی تجویز دی ہے۔

دیکھیں: برطانیہ میں غیر قانونی مقیم افغان شہری کی 2 خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، گرفتار کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *