"> ایران میں احتجاجی مظاہروں میں اضافہ، میڈیا اور انٹرنیٹ بندش - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران میں احتجاجی مظاہروں میں اضافہ، میڈیا اور انٹرنیٹ بندش

ایران میں احتجاجی مظاہروں میں شدت کے بعد حکومت نے ملک بھر میں میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی ہے
ایران میں احتجاجی مظاہروں میں شدت کے بعد حکومت نے ملک بھر میں میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی ہے

ریاستی میڈیا نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو جذبات کے زیرِ اثر احتجاج میں نہ بھیجیں

January 9, 2026

ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی ہے، جس کے بعد حکومت نے ملک بھر میں میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی ہے۔ واضح رہے کہ ریاستی میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر گزشتہ رات سے خبریں یا پوسٹس نہیں دیکھی گئیں۔

احتجاجی مظاہرے ایران کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں، جن میں تہران، شیراز، اصفہان اور کرمانشاہ شامل ہیں۔ ہزاروں شہری اور طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جنہوں نے مہنگائی، بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور حکومت کی ناقص پالیسیاں اور ریال کی گراوٹ کے خلاف احتجاج کیا۔ نیز مظاہرین سیاسی تبدیلی اور موجودہ نظام میں اصلاحات کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

انٹرنیٹ اور میڈیا کی بندش کے باوجود، ایران کے ایک ریاستی میڈیا ادارے نے تہران میں گزشتہ شب کے پُرتشدد مظاہروں کے مناظر ٹیلیگرام پر جاری کیے۔ ادارے نے والدین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کو جذبات کے زیر اثر احتجاجی جلسوں میں نہ بھیجیں، اس دعوے کے ساتھ کہ دہشت گردانہ گروہ احتجاج میں شامل ہو کر لوگوں کو قتل کرنے اور خوف عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاجات میں اب تک کم از کم 40 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں متعدد شہروں میں شدت پسندانہ اقدامات اور تشدد کے مناظر بھی دیکھے گئے۔

دیکھیں: تہران میں ہنگاموں کے دوران موساد سے منسلک کارندہ گرفتار؛ ایرانی سکیورٹی حکام کی تصدیق

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *