موجودہ عالمی منظرنامہ کسی خاموش آتش فشاں کی مانند ہے، جو بظاہر پرسکون مگر اندر ہی اندر لاوے سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن میں طاقتور لابیاں فیصلہ کن دباؤ ڈال رہی ہیں، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں زمینی حقائق تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ کشیدگی بڑھے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دھماکہ کہاں سے شروع ہوگا اور اس کی لپیٹ میں کون کون آئے گا۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور امریکی یہودی لابی ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف “آخری موقع” قرار دے رہے ہیں اور واشنگٹن پر دباؤ ہے کہ محدود کارروائی کو ایک مکمل جنگ میں بدلا جائے، جسے اسرائیلی حلقے “آپریشن رائزنگ لائن” کا نام دے رہے ہیں۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت شدید اسٹریٹجک تذبذب کا شکار ہیں۔ ایک جانب ان کے ووٹرز لامتناہی جنگوں کے خاتمے کے خواہاں ہیں، تو دوسری جانب ان کے بڑے مالی معاونین ایران کو کچلنے کا تقاضا کر رہے ہیں۔
یہ تضاد خود امریکہ کے اندر بھی واضح ہے۔ میگا تحریک، ڈیموکریٹ حلقے، برنی سینڈرز اور حتیٰ کہ نائب صدر جے ڈی ونس جیسے سیاست دان ایران کے ساتھ جنگ کو عراق اور افغانستان سے بھی بڑی اسٹریٹجک غلطی قرار دے چکے ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیل براہِ راست جنگ کے بجائے پراکسی وار، سائبر آپریشنز اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔
ایران پر حملے میں امریکی ہچکچاہٹ کی ایک بڑی وجہ وینزویلا میں ہونے والا حالیہ اسٹریٹجک دھچکا بھی ہے۔ جنوری 2026 کے اوائل میں امریکی اسپیشل فورسز کی جانب سے صدر نکولس مادورو کے اغوا کے باوجود واشنگٹن وہاں انتظامی کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہا۔ عبوری قیادت نے نہ صرف مزاحمت جاری رکھی بلکہ تیل کے ذخائر امریکی کمپنیوں کے حوالے کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ ایکسن موبل جیسی بڑی کمپنیاں وینزویلا کے پرانے انفراسٹرکچر اور ہیوی سور تیل کے باعث سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ اس صورتحال نے امریکہ کو ایک ایسے دلدل میں پھنسا دیا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں، اور یہی تجربہ ایران کے خلاف نئے محاذ سے روکنے والا عنصر بن رہا ہے۔
ایران کے اندر معاشی بحران، کرنسی کی گراوٹ اور مہنگائی نے عوامی احتجاج کو جنم دیا ہے، جسے بیرونی قوتیں کھل کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ سابق شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کو مغرب اور اسرائیل ایک متبادل قیادت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے اسرائیل کے دورے، وفاداری کے بیانات اور خاندانی روابط اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ رجیم چینج کے بعد تہران کا جھکاؤ تل ابیب کی جانب ہوگا۔ تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا مضبوط ڈھانچہ اور ایران کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت فوری تبدیلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ موساد اور امریکی ایجنسیاں مظاہروں کو منظم کرنے میں سرگرم ہیں، جبکہ انٹرنیٹ بندش کے دوران اسٹارلنک کی فراہمی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔
اسرائیل کی نظر صرف ایران تک محدود نہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور ایران کے گرد ایک غیر مرئی دائرہ کھینچنے کی کوشش جاری ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارت کو جدید ہتھیاروں، باراک-8 میزائلوں اور پیگاسس اسپائی ویئر کی فراہمی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ پاکستان کی دفاعی اور ایٹمی صلاحیت کو دباؤ میں رکھا جا سکے۔ اس کے باوجود حالیہ بحران میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مؤثر ثالثی کا کردار ادا کیا، جسے ایرانی سفیر نے بھی سراہا، اور جس نے فی الحال نیتن یاہو کے جنگی عزائم کو بریک لگا دی۔
ترکیہ کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کو روکنے کے لیے اسرائیل یونان اور قبرص میں فوجی تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بڑھا رہا ہے۔ انقرہ کی جانب سے اسرائیل کو یہ واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ ایران میں عدم استحکام پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔ ان تینوں مسلم طاقتوں کے خلاف اسرائیل خوف کے توازن اور بالواسطہ جنگ کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے، جس کا توڑ صرف مشترکہ علاقائی حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔
اگر ایران کا موجودہ نظام بکھر گیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ نسلی بنیادوں پر علیحدگی پسند تحریکیں جنم لیں گی، جس کا براہِ راست دباؤ پاکستان پر “گریٹر بلوچستان” جیسے منصوبوں کی صورت میں آ سکتا ہے۔ خوزستان اور کرد علاقوں میں خانہ جنگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس کا فائدہ بالآخر اسرائیل اور بھارت کو ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ جنگ امریکہ پر کھربوں ڈالر کا بوجھ ڈالے گی، جو پہلے سے کمزور امریکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
چین بھی اس پورے منظرنامے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیجنگ نے کھل کر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ ٹرمپ کا تائیوان سے متعلق حالیہ بیان کہ “چین جو چاہے کرے”، ایک خطرناک جال محسوس ہوتا ہے، جس کا مقصد چین کو بھی روس کی طرح ایک طویل اور مہنگی جنگ میں الجھانا ہے۔ یوکرین میں ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال اور ایشیا پیسیفک میں بڑھتی کشیدگی اس بات کا عندیہ ہے کہ دنیا ایک کثیر محاذی عالمی تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے۔
آج مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل صرف واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسلام آباد، انقرہ اور تہران جیسے دارالحکومتوں میں بھی طے ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بیشتر خلیجی ممالک کا (سوائے یو اے ای) امریکی اڈوں سے فاصلہ رکھنا ایک بڑی سفارتی تبدیلی ہے۔ اگر مسلم دنیا اسرائیل کے اس غیر مرئی محاصرے کو بروقت نہ سمجھ سکی تو خطے کا امن طویل عرصے کے لیے خاکستر ہو سکتا ہے۔