پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر عالمی اشاریے برسوں سے ایک منفی بیانیہ تشکیل دیتے آ رہے ہیں، جن کی بنیاد زیادہ تر تاثرات، بیرونی ماہرین کی آرا اور ثانوی ذرائع پر ہوتی ہے۔ انہی رپورٹس کو عالمی رائے عامہ، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور پالیسی مباحث میں حوالہ بنایا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اشاریے واقعی عام پاکستانی شہری کے روزمرہ تجربے کی عکاسی کرتے ہیں؟ انڈیکس آف ٹرانسپیرنسی اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ان پاکستان اسی بنیادی سوال کا بروقت اور ٹھوس جواب بن کر سامنے آیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے اشتراک سے اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے آئیپسوس کے ذریعے تیار کیا گیا آئی ٹیپ پاکستان کا پہلا مقامی، وسیع البنیاد اور سائنسی اشاریہ ہے جو محض تاثر نہیں بلکہ شہریوں کے حقیقی تجربات کو بھی ناپتا ہے۔ 6,000 سے زائد شہریوں پر مشتمل یہ قومی سروے، شہری و دیہی علاقوں، تمام صوبوں، عمر اور جنس کی مکمل نمائندگی کے ساتھ، اس امر کا واضح ثبوت فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کا تاثر حقیقت سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع ہے۔
اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ جہاں 68 فیصد پاکستانی رشوت کو عام سمجھتے ہیں، وہیں صرف 27 فیصد نے ذاتی طور پر اس کا سامنا کیا۔ اقربا پروری اور ناجائز دولت کے حوالے سے بھی یہی فرق نمایاں ہے، خاص طور پر غیرقانونی دولت کے معاملے میں، جہاں 59 فیصد کے تاثر کے مقابلے میں محض 5 فیصد کا رجحان سامنے آیا۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف بدعنوانی نہیں بلکہ اعتماد اور ساکھ کا بحران ہے، جو برسوں کے منفی بیانیے اور ادارہ جاتی فاصلے کا نتیجہ ہے۔
آئی ٹیپ کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل اصلاحات اور گورننس میں بہتری کے اثرات کو نچلی سطح پر ثابت کرتا ہے۔ نادرا، سرکاری ہسپتال، ٹریفک پولیس اور تعلیمی اداروں کی بہتر درجہ بندی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ خودکار نظام، ڈیجیٹل سروسز اور انسانی صوابدید میں کمی نے شہری تجربے کو بہتر بنایا ہے۔ تاہم اصلاحات کا اثر فوری طور پر عوامی تاثر میں منتقل نہیں ہوتا۔ تاثر سست رفتاری سے بدلتا ہے، جبکہ حقیقت خاموشی سے بہتر ہو رہی ہوتی ہے۔
عالمی اشاریے پاکستان کو یہ نہیں بتاتے کہ کہاں، کیسے اور کن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ٹیپ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو صوبائی، ادارہ جاتی اور حتیٰ کہ ذیلی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات کے لیے آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان مکمل طور پر بدعنوانی میں گھرا ملک نہیں، بلکہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں اکثریت کے روزمرہ ریاستی معاملات صاف اور شفاف ہیں، مگر اعتماد کی کمی نے اس حقیقت کو دھندلا دیا ہے۔ اصل چیلنج اب بدعنوانی سے زیادہ تاثر اور حقیقت کے درمیان خلیج کو ختم کرنا ہے۔ اگر ریاست، میڈیا اور پالیسی ساز آئی ٹیپ جیسے مقامی، سائنسی اور شفاف اشاریوں کو سنجیدگی سے اپنائیں، تو پاکستان کا گورننس بیانیہ محض عالمی رینکنگز کا پابند نہیں رہے گا بلکہ زمینی حقائق پر استوار ہو سکے گا۔