اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دہشتگرد حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران خودکش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے قریبی رشتہ داروں اور سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ایک اہم سہولت کار مقابلے میں مارا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق خودکش بمبار کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ اس کے بھائی کو پشاور سے حراست میں لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان گرفتار شدہ افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان سے حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور نیٹ ورک سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ دہشتگردی میں ملوث ایک نہایت اہم سہولت کار نوشہرہ میں کارروائی کے دوران مارا گیا، جو حملے کی لاجسٹک اور آپریشنل سپورٹ فراہم کر رہا تھا۔ اداروں کے مطابق اس سہولت کار کا نیٹ ورک دیگر دہشتگرد عناصر سے بھی منسلک تھا۔
سب سے اہم پیش رفت کے طور پر خودکش بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں واقع گھر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خاتون سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ حملے کے پس پردہ سہولت کاری، رابطوں اور ممکنہ سہولت نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں پیش آنے والے اس دہشتگردی کے واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے پورے ملک میں آپریشنز تیز کر دیے ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشتگردوں کے سہولت کاروں، ہمدردوں اور نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، جبکہ شہریوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔