"> نئے قانون کا کمال ، جنسی بلیک میلنگ کا مجرم طالبان ضلعی گورنر گینگ سمیت بری  - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

نئے قانون کا کمال ، جنسی بلیک میلنگ کا مجرم طالبان ضلعی گورنر گینگ سمیت بری 

بدخشاں میں مبینہ بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کیس میں قاری محمد عاصف پر ویڈیوز کے ذریعے رقوم وصول کرنے اور خاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے، بعد ازاں انہیں نئے قانون کے تحت رہا بھی کر دیا گیا
بدخشاں میں مبینہ بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کیس میں قاری محمد عاصف پر ویڈیوز کے ذریعے رقوم وصول کرنے اور خاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے، بعد ازاں اطلاعات کے مطابق انہیں نئے قانون کے تحت رہا بھی کر دیا گیا

اطلاعات کے مطابق قاری محمد عاصف کا تعلق بدخشاں کے طالبان گورنر محمد اسماعیل غزنوی کے گروہ سے بتایا جاتا ہے

February 9, 2026

افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع رغستان کے طالبان ضلعی گورنر قاری محمد عاصف ولد ظفر محمد کو جنسی بلیک میلنگ اور فراڈ کے ایک کیس میں نئے قانون کے تحت بغیر کسی کاروائی کے رہا کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق قاری محمد عاصف نے ضلع داراز کے طالبان لیڈر مولانا حمید اللہ انصاری کے ساتھ مل کر طالبان اہلکاروں پر مشتمل پانچ رکنی گروہ تشکیل دیا، جس پر جنسی بلیک میلنگ کے ذریعے مالدار افراد سے رقوم وصول کرنے کا الزام ہے۔ سورسز کا کہنا ہے کہ گروہ میں شامل ایک خاتون کے ذریعے بعض منی ایکسچینجرز کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر حاصل کی گئیں اور انہیں استعمال کرتے ہوئے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔

سورسز کے مطابق ایک واقعے میں بدخشاں کے ایک سراف انور خان ولد بای مراد کو مبینہ طور پر جال میں پھنسا کر ان کی ویڈیوز اور تصاویر حاصل کی گئیں، جس کے بعد قاری محمد عاصف کے حکم پر ان سے 50 ہزار امریکی ڈالر وصول کیے گئے۔

یہ معاملہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب قاری محمد عاصف پر اسی خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے اور ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے کا الزام سامنے آیا، جس پر خاتون کے اہل خانہ نے فیض آباد میں صوبائی قاضی کی عدالت میں شکایت درج کروائی۔ بعد ازاں طالبان انٹیلی جنس نے خاتون اور مولانا حمید اللہ انصاری کو گرفتار کر لیا۔
سورسز کے مطابق اس نیٹ ورک کے مبینہ سربراہ قاری محمد عاصف کو نئے قانون کے تحت رہا کر دیا گیا، جبکہ مولانا حمید اللہ انصاری کو بھی بعد میں رہا کر دیا گیا۔ خاتون اس وقت زیر حراست ہے۔ اطلاعات کے مطابق قاری محمد عاصف کا تعلق بدخشاں کے طالبان گورنر محمد اسماعیل غزنوی کے گروہ سے بتایا جاتا ہے۔

دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *