بدخشاں میں مبینہ بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کیس میں قاری محمد عاصف پر ویڈیوز کے ذریعے رقوم وصول کرنے اور خاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے، بعد ازاں انہیں نئے قانون کے تحت رہا بھی کر دیا گیا
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ہفتے کے روز اس وقت ہوا جب ایک گاڑی صوبہ نورستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سفر کر رہی تھی۔ گاڑی کے قریب نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
کابل سے موصول اطلاعات کے مطابق سادین آئی یلدز نے ایک روز قبل افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے ترکی کی جانب سے کابل میں سفارتی نمائندگی کی سطح کم کرنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان حکومت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
افغانستان میں ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں نافذ نئے تعزیری قانون نے مخالفین کے قتل کے گیارہ قانونی اسباب واضح کیے ہیں، جس میں سزائے موت کا نفاذ صرف امیر طالبان کی صوابدید سے ممکن ہے۔ یہ قانون ریاستی نظام کو ادارہ جاتی شکل سے ہٹا کر شخصی کنٹرول کے تابع کرتا ہے اور انسانی حقوق، عدالتی شفافیت اور مذہبی آزادی کے لیے شدید خطرہ ہے
یکم فروری 2026 کو ملا ہیبت اللہ نے 20 اہم عہدوں پر تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات جاری کیے، جن کا مقصد طاقت کے توازن کو مزید مستحکم کرنا بتایا جا رہا ہے
سورس کے مطابق جلال آباد ایئرپورٹ پر قندھار سے آئے طالبان گروپ اور مقامی اہلکاروں کے درمیان داخلے پر تلخ کلامی شروع ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی تک جا پہنچی
قندوز میں ہزارہ برادری سے چھینی گئی جائیدادیں مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام اور گل بہادر گروپ سے وابستہ افراد میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب قندھار، ہلمند اور غزنی کے پشتون اکثریتی علاقوں میں صدیوں سے آباد ہزارہ آبادیوں کو بھی سرکاری اراضی قرار دے کر جبراً خالی کروایا جا چکا ہے۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔
پہلی کارروائی 17 جنوری کو رات 8 بج کر 30 منٹ پر ضلع شندند میں کی گئی، جہاں گشت پر مامور طالبان کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں طالبان کے دو اہلکار رسول شاہ بلخی اور حمیداللہ ہلاک ہو گئے، جبکہ گاڑی میں موجود دیگر دو اہلکار موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔