بدخشاں کے ضلع جرم میں طالبان انٹیلی جنس کی کاروائی میں 13 افراد کو داعش خراسان سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ ذرائع اندرونی اختلافات اور وسائل کے تنازع کو اصل وجہ قرار دے رہے ہیں۔
غیر ملکی جنگجوؤں کے ایک مرکز پر گوریلا کارروائی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس حملے میں مرکز کا ایک حصہ مکمل تباہ ہو گیا جبکہ تقریباً دس طالبان اور انصار اللہ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہلاک ہوئے، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
اہل علاقہ کا ایک جرگہ حاجی ملک دین خان اور بابرزئی کی قیادت میں ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نئی سڑک کے نقشے میں آنے والے گھروں کو گرانے سے پہلے عمارت اور زمین کا منصفانہ معاوضہ بازار کے نرخ کے مطابق ادا کیا جائے۔ معاوضہ دیے بغیر گھروں کو مسمار کرنا ظلم ہے جس کی مزاحمت کی جائے گی
افغانستان میں طالبان قیادت کی جانب سے نجی اثاثوں پر قبضے اور جبری وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب کابل میں ‘افغانستان لبریشن فرنٹ’ کے حملے میں متعدد طالبان اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں
یہ تقرریاں طالبان کی اندرونی انتظامی حکمت عملی اور سکیورٹی معاملات کو مؤثر بنانے کے سلسلے کا حصہ ہیں، تاہم ان تبدیلیوں کی وجوہات کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی صوبہ کنڑ میں طالبان کے ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں کم از کم تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
سورس کے مطابق ملازمین کو بلا وجہ مستعفی ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہےا ور انکار کرنے والوں کو جبری بر طرف کردیا جاتا ہے ۔ افغانستان کی موجودہ رجیم میں ملازموں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کوئی قانونی حقوق حاصل ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین کی نوکری طالبان کے مقررکردہ محکموں کے سربراہان کے رحم وکرم پر ہے
سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی کے باعث طالبان نے داعش، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے وابستہ عناصر کو کنڑ، نورستان اور ننگرہار جیسے علاقوں سے منتقل کر کے اندرونی صوبوں، خصوصاً فاریاب، میں منتقل کیا ہے۔