افغانستان کی سرحدوں کے ساتھ ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی، سرحدی دخل اندازی اور مسلح حملے باقاعدگی سے رونما ہو رہے ہیں۔ افغان۔ تاجک سرحد پر بار بار ہونے والے واقعات کے بعد روس کی قیادت میں قائم کولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) نے تاجک سرحدی افواج کو جدید ہتھیار اور آلات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ افغانستان سے تاجکستان میں ہونے والی دخل اندازی اور حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
26 نومبر 2025 کو بدخشان، افغانستان سے کوادروکاپٹر کے ذریعے تاجکستان میں ایک چینی سائٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تین چینی شہری ہلاک ہوئے۔ 30 نومبر 2025 کو ایک اور حملے میں چین روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے دو کارکن مارے گئے، جس سے چار دن میں پانچ چینی شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ 18 جنوری 2026 کو افغانستان سے دہشت گردوں کی سرحدی دخل اندازی ناکام بنائی گئی، جبکہ 29 جنوری 2026 کو مسلح اسمگلرز افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہوئے اور تاجک سرحدی افواج کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہوئے، اور بڑی مقدار میں ہتھیار، منشیات اور آلات ضبط کیے گئے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں تقریباً 13,000 غیر ملکی دہشت گرد جنگجو شامل ہیں، جن کا تعلق ٹی ٹی پی، آئی ایس آئی ایل کے، القاعدہ، اے کیو آئی ایس، آئی ایم یو، ای ٹی آئی ایم/ٹی آئی پی، جماعت انصار اللہ اور دیگر گروہوں سے ہے۔ یہ گروہ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ چینی شہریوں، علاقائی رابطہ منصوبوں اور اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی براہِ راست خطرات پیدا کرتے ہیں۔
طالبان حکومت نے افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بنا دیا ہے، جہاں وہ آزادانہ حرکت، آپریشنل جگہ اور تحفظ حاصل کرتے ہیں، جبکہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ طالبان کے زیر سرپرستی 23,000 سے زائد مدارس میں تعلیم کے بجائے نظریاتی تربیت پر زور دیا جاتا ہے، جس سے انتہا پسندی کو سرحد پار فروغ ملتا ہے۔ خواتین پر پابندیاں اور اقتصادی و تعلیمی استثنا غربت، علیحدگی اور انتہا پسندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔
ایسی صورت حال میں افغانستان ایک جمہوری و عالمی قوانین کے سائے میںکام نہیں کر رہا بلکہ دہشت گردی، منشیات، ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور انتہاء پسندی کے ذریعے عدم تحفظ برآمد کر رہا ہے۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی جمہوریوں کو سرحدی دخل اندازی، حملے اور اقتصادی خلل کا سامنا ہے، جبکہ علاقائی تجارتی راستے، توانائی کے منصوبے اور رابطہ منصوبے بھی خطرے میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں مشترکہ حکمت عملی، انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی تعاون، مالی نگرانی اور یکساں سفارتی دباؤ ناگزیر ہے۔ افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز تسلیم کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف ایک علاقائی مسئلہ۔