پاکستان میں لاپتا افراد کے معاملے پر ایک سنگین رُخ سامنے آیا ہے، جہاں سکیورٹی ذرائع اور شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ چہرے جو بار بار “لاپتا” قرار پاتے رہے، حقیقت میں کالعدم تنظیموں کے تربیتی کیمپوں میں سرگرم تھے۔ حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ کئی ایسے افراد جو گمشدہ ظاہر کیے گئے، بی ایل اے اور بی ایل ایف کی صفوں میں دوبارہ مسلح طور پر منظر عام پر آئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دہشت گرد مقامی اور سرحدی علاقوں میں چھپ کر کاروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور منظم حملوں یا دیگر مسلح کاروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ایسے افراد کو بار بار “لاپتہ” ظاہر کرنا ایک حربہ ہے تاکہ ان کی شناخت چھپائی جا سکے اور سکیورٹی اداروں کے لیے نگرانی مشکل ہو۔ ماہرین کے مطابق انسانی حقوق کے عنوان پر ان چہروں کو مظلوم ظاہر کرنا ایک منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہے، جس سے دہشت گرد عوامی ہمدردی حاصل کرتے ہیں۔
تفتیشی رپورٹس سے یہ بھی واضح ہوا کہ “لاپتا” افراد کے طور پر رپورٹ کیے جانے والے کئی دہشت گرد حالیہ مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے ان کی اصل سرگرمیوں کی تصدیق ہوتی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ چھپے ہوئے دہشت گرد نہ صرف امن و امان کے لیے خطرہ ہیں بلکہ مقامی عوام میں خوف و ہراس بھی پیدا کرتے ہیں۔
اداروں نے عوام پر زور دیا ہے کہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ دہشت گردانہ منصوبوں کی بروقت روک تھام ممکن ہو سکے۔ ماہرین مزید کہتے ہیں کہ یہ صورتحال بی ایل اے اور بی ایل ایف کی منظم کارروائیوں کے خطرے کو اجاگر کرتی ہے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے مؤثر انسداد اقدامات کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔